منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

71ء کے بعد اب بھی ملک پر نیازی مسلط ہے، گرفتار بھارتی پائلٹ کو رہا کیوں کیاگیا؟ مولانا فضل الرحمان نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 1  مارچ‬‮  2019 |

سکھر (آن لائن)ایم ایم اے کے مرکزی صدر مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ گرفتار بھارتی پائلٹ کی گرفتاری بیرونی دباؤ کا نتیجہ ہے، گستاخ رسول کی آزادی ہو یا پائلٹ کی آزادی بیرونی دباؤ کا نتیجہ ہے، ہمارے ملک کے فیصلے حکمرانوں کے بجائے بیرونی دباؤ پر ہو رہے ہیں، پاک فوج کی فتح کو وزیراعظم نیازی شکست میں تبدیل نہیں کر سکتے، خوف بھارت کا نہیں بلکہ بدقسمتی یہ ہے کہ 71ء کے بعد اب بھی ملک پر نیازی مسلط ہے،

جعلی حکومت کا تختہ الٹ دیں گے، اگلے ماہ اسلام آباد میں پڑاؤ ڈالا جائے گا، نئے سرے سے الیکشن کرائے جائیں ایم ایم اے کے مرکزی صدر اور جمعیت علمائے اسلام کے مرکزی امیر مولانا فضل الرحمان نے گزشتہ روز جامعہ منزل گاہ سکھر جے یو آئی سکھر کے رہنما مفتی سعود افضل ہالیجوی سے اس کے بھائی امیر فیصل کے انتقال پر تعزیت کرتے ہوئے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بیرونی دباؤ کے تحت فیصلہ کیے جا رہے ہیں، گستاخ رسول کی گرفتاری ہو یا گرفتار بھارتی پائلٹ ابھی نند کی آزادی بیرونی دباؤ کے نتیجے میں ہوئی ہے، خوف یہ نہیں ہے کہ بھارت سے جنگ ہے بدقسمتی یہ ہے کہ 71ء کی طرح اس مرتبہ بھی ملک میں ایک نیازی مسلط ہے، جعلی حکومت کو مزید برداشت نہیں کر سکتے، دوبارہ نئے سرے سے الیکشن کرائے جائیں ایسا نہیں ہوتا تو اگلے ماہ اسلام آباد میں پڑاؤ ڈالا جائے گا، حکومت کا تختہ الٹ کر واپس لوٹیں گے، مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ وہ ایک ہفتے کے دورے پر سندھ آئے ہوئے تھے سندھ کی عوام نے لاکھوں کی تعداد میں ناموس رسالت ملین مارچ میں شرکت کرکے حکومت کے خلاف ریفرنڈم دے دیا ہے، مولانا فضل الرحمن کراچی، بدین، نوشہرہ فیروز، جامشورو، سییوہن، لاڑکانہ، سکھر، شکارپور، جیکب آباد، ڈیرہ الہیار تک پروگرام اور ملین مارچ میں شرکت کے بعد گزشتہ روز سکھر سے بائے روڈ اسلام آباد کیلئے روانہ ہوگئے اس موقع پر مولانا فضل الرحمان کے ساتھ جے یو آئی سندھ کے سیکرٹری جنرل علامہ راشد محمود سومرو، قاری محمد عثمان، آغا محمد ایوب شاہ، مفتی سعود افضل ہالیجوی مولانا محمد صالح انڈھڑ، عبدالقیوم ہالیجوی و دیگر رہنما موجود تھے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…