اسلام آباد (این این آئی)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی جانب سے قرارداد پیش کرنے کیلئے ایوان میں سپیکر سے پہلے باری مانگنے پر خواجہ آصف برہم ہو گئے۔ جمعرات کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دور ان وزیر خارجہ شاہ محمو دقریشی بھارت کی جانب سے سرحدی خلاف ورزیوں کے خلاف قرار داد پیش کر نا چاہتے تھے اس موقع پر سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اگر قرارداد پاس ہوگئی تو تقاریر فارغ ہوجائیں گی۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ
مجھے کچھ رابطے کرنے ہیں، اس لیے قرار داد پاس کی جائے۔خواجہ آصف نے کہاکہ مجھے کہنے پر مجبور نہ کریں، ہماری مدد کو کوئی نہیں آرہا۔ شاہ محمود قریشی نے کہ اکہ تمام جماعتوں نے اگر قرارداد پر رضامندی ظاہر کی ہے تو قرار داد پاس کرنے دی جائے،میں درخواست کرتا ہوں کہ مجھے میرا موقف پیش کرنے دیا جائے۔ خواجہ آصف نے کہا کہ عوام کی رائے ہم سب کی ریڑھ کی ہڈی ہے،ناقابل اعتبار لوگوں پر انحصار مت کریں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ کچھ چیزیں قبل از وقت ہوسکتی ہیں،اس بات کو ایشو نہ بنایا جائے،مجھے پہلے قرارداد پیش کرنے کی اجازت دی جانی چاہیے ،جب سب اراکین متفق ہیں تو اس بات کا ایشو بنانا غلط ہے۔اسپیکر کے کہنے پر شاہ محمود قریشی سے اپوزیشن رہنماؤں نے ایوان میں مشاورت کی ۔ سپیکر نے کہا کہ مجھے یہ بتائیں کہ قرارداد آج پیش کرنی ہے یا نہیں۔خواجہ آصف نے کہاکہ آج پیش کریں چاہے رات کے دس بج جائیں مگر پہلے سب کو بولنے دیں۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ میری بہت سی مصروفیات ہیں اس لیے قرارداد پیش کرنا چاہتا ہوں،بہت سے اہم رابطے کرنے ہیں۔خواجہ آصف نے کہا کہ آپ کی مجبوری سمجھ سکتے ہیں مگر سب سے پہلے پاکستان اور پھر پارلیمنٹ ہے۔خواجہ آصف نے کہاکہ مجھے بولنے پر مجبور نہ کریں،اس مسئلے کا کوئی سفارتی حل نہیں نکلنے جا رہا۔سپیکر نے کہا کہ آپ دونوں بیٹھ کر فیصلہ کر لیں کہ
کیا کرنا ہے؟۔بعد ازاں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے قرارداد منظور کرنے کے لئے اپوزیشن رہنماؤں کو قائل کرلیا،اپوزیشن کے تمام رہنماوں نے بھارت مخالف قرارداد پر دستخط کردیئے ،شاہ محمود قریشی نے اپوزیشن رہنماؤں کی نشستوں پر جاکر دستخط کرائے ،راجہ پرویزاشرف خرم دستگیر مولانا اسعد محمود امیر حیدر ہوتی سراج الحق سمیت دیگر رہنماؤں کے دستخط ہیں تاہم پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس (آج)جمعہ کی صبح ساڑھے دس بجے تک ملتوی کر دیا گیا بھارتی جارحیت کیخلاف قرارداد پیش کی جائیگی۔