بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

واہگہ بارڈر پریڈ دیکھنے آنے والے پاکستانیوں کا جوش وجذبہ عروج پر،بھارتی حصے میں ہو کا عالم، سٹیڈیم کا بڑاحصہ خالی نظرآیا

datetime 27  فروری‬‮  2019 |

لاہور(سی پی پی)پاکستان اوربھارت کے مابین جہاں سرحدی کشیدگی انتہا پرہے وہیں لاہورکے واہگہ بارڈرپرجوش اورجذبوں کی جنگ بھی عروج پرہے۔واہگہ بارڈرپرپریڈ دیکھنے آنے والے پاکستانیوں نے اپنے جوش اورجذبے سے ثابت کردیا کہ بھارتیوں دیکھ لوپاکستانی ڈرنے والے نہیں بلکہ بہادرقوم ہے۔ لاہورکے واہگہ اٹاری بارڈرپرویسے توہرروز

جذبوں کی جنگ ہوتی ہے لیکن بھارت کی طرف سے بالاکوٹ میں ائیراسٹرائیک کے دعوں کے بعد پاکستانیوں کی بڑی تعداد یہاں ہونے والے پاکستان رینجرزپنجاب اوربی ایس ایف انڈیا کے جوانوں کی پرید دیکھنے پہنچے۔پریڈ دیکھنے آنے والوں میں نوجوان، بزرگ، بچے اورخواتین شامل تھیں۔ پریڈ شروع ہونے سے پہلے ہی پاکستانی اسٹیڈیم شہریوں سے بھرگیا لیکن دوسری طرف بھارتی اسٹیڈیم کا بڑاحصہ خالی نظرآیا پریڈ کے دوران پاکستان رینجرزپنجاب کے جوانوں کا جذبہ کی قابل دید تھا۔ پریڈ معمول سے مختلف نظرآرہی تھی، پاکستانی جوانوں کا ہاتھوں، چہرے اورآنکھوں کے اشارے سے دشمن کے جوانوں کو منہ توڑجواب دیکھ کرواہگہ بارڈرکی فضائیں نعرہ تکبیر اللہ اکبر اورپاکستان زندہ بادکے نعروں سے گونجتی رہیں۔خواتین، بچے اوربزرگ ڈھول کی تھاپ پرنعرے لگاتے اورپاکستان رینجرزپنجاب کے جوانوں کا حوصلہ بڑھاتے رہے پریڈ دیکھنے آنیوالے شہریوں کا کہنا تھا وہ آج بھارت کویہ دکھانے آئے ہیں کہ پاکستانی تمہارے حملے کے جھوٹے دعوں سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ پاکستان کا بچہ بچہ وطن کے دفاع کے لئے تیارہے۔لاہورکے علاقہ ماڈل ٹائون سے آنیوالی خواتین نے کہا وہ آج پاکستان رینجرزپنجاب کے جوانوں کا حوصلہ بڑھانے آئے ہیں۔

پوری پاکستانی قوم اپنی فوج اوررینجرزکے ساتھ کھڑی ہے۔ یہاں آنیوالے جوانوں اوربزرگوں نے کہا حکومت اجازت دے توچند منٹوں میں بھارت کومزاچکھادیں گے۔واہگہ اٹاری بارڈرپردونوں سرحدی فورسزطے شدہ قواعد کے تحت مشترکہ پریڈ کرتی ہیں، اس دوران دونوں طرف پریڈ دیکھنے آنے والے شہریوں کو اشتعال انگیزاورایک دوسرے ملک کے خلاف نعرے لگانے کی اجازت نہیں دی جاتی ہے۔ دونوں ملکوں میں حالات کے اتارچڑھاو کا اثر پریڈ میں شریک جوانوں پربھی پڑتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…