منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

سرجیکل سٹرائیکس اور مشتعل بیانیہ خطے کے امن کیلئے خطرناک ہیں ،اسفندیار ولی خان نے اہم مشورہ دے دیا

datetime 26  فروری‬‮  2019 |

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے واضح الفاظ میں کہا ہے کہ امن کے خواہاں ہیں اور دنیا باالخصوص اپنے ملک میں پائیدار امن کے قیام کے حق میں ہیں،اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اے این پی سوچ و فکر کے لحاظ سے جنگ کے حق میں نہیں، باچا خان سے لے کر ولی خان تک اور آج کی اے این پی بھی ہر پلیٹ فارم پر امن کیلئے حتی الوسع کوششیں کرتی آ رہی ہے ، ہم باچا خان کے فلسفہ عدم تشدد کے پیروکار ہیں، اگر ایسے حالات پیدا ہوتے ہیں تو

اس کے تدارک کیلئے اے این پی خود بھی کوششیں کرے گی اور تمام فریقین کو بھی پُرامن رہنے کی تلقین کرے گی، انہوں نے کہا کہ سرجیکل سٹرائیک اور مشتعل بیان بازی سے امن کو خطرہ ہو گا جبکہ مزید مسائل جنم لیں گے لہٰذا صورتحال کی نزاکت کا ادراک کرتے ہوئے ہر صورت مذاکرات ہونے چاہئیں،انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ سپریم ہے اور پارلیمنٹ کو اس نازک وقت میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے ،مرکزی صدر نے کہا کہ اگر تباہی کے بعد مذاکرات کرنا ہیں تو بربادی سے قبل بات چیت میں کوئی مضائقہ نہیں، اسفندیار ولی خان نے کہا کہ ملک نازک دوراہے پر کھڑا ہے اور دونوں ملکوں کو جوش کی بجائے عقل اور ہوش سے کام لینا چاہئے ، انہوں نے کہا کہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں ،دنیا بھر میں تمام تنازعات صرف مذاکرات کی میز پر ہی حل ہو سکتے ہیں ، انہوں نے کہا کہ جنگ سے ہر ممکن طور پر اجتناب کیا جائے، اگر باوجود اس کے پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو اے این پی اپنے ملک کے ساتھ کھڑی ہو گی،انہوں نے کہا کہ سیاسی وابستگی سے بالاتر ملک کی بقا اولیں ترجیح ہے اور اے این پی اپنی اس ذمہ داری سے کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔اسفندیار ولی خان نے اس بات پر زور دیا کہ دونوں ملک ضبط و تحمل کا مظاہرہ کریں اور باہمی مذاکرات اور گفت و شنید سے تمام مسائل کا سیاسی اور سفارتی حل تلاش کریں، انہوں نے کہا کہ تشدد سے مسائل حل ہونے کی بجائے مزید بڑھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اے این پی ہر فورم پر عدم تشدد کی پالیسی اپنائے رکھتی ہے اور ہر مسئلے پر فریقین کو بھی عدم تشدد کی تلقین کرتی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…