منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

نعیم الحق کابینہ میں رہیں گے ، فواد چوہدری چلے جائینگے ، عمران خان کی کیا مجبوری ہے؟سینیٹر مشاہد اللہ خان نے بڑا دعویٰ کردیا

datetime 25  فروری‬‮  2019 |

ا سلام آباد(آن لائن)پاکستان مسلم لیگ(ن) کے سینیٹر مشاہد اللہ خان نے وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی کے درمیان تلخیوں سے متعلق پیش گوئی کی ہے کہ فواد چوہدری کابینہ میں نہیں رہیں گے،نعیم الحق، عمران خان کے راز دار ہیں، نعیم الحق کے پاس بہت سے ایسے راز ہیں جو نہیں بتائے جا سکتے جبکہ فواد چوہدری ابھی نئے ہیں نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے مشاہد اللہ خان نے کہا کہ فواد چوہدری اور نعیم الحق اس حکومت کے لیے

پریشانی کا باعث ہیں۔انہوں نے کہا کہ نعیم الحق، عمران خان کے راز دار ہیں، نعیم الحق کے پاس بہت سے ایسے راز ہیں جو نہیں بتائے جا سکتے جبکہ فواد چوہدری ابھی نئے ہیں۔مشاہد اللہ خان نے کہا کہ عمران خان نعیم الحق کے معاملے پر مجبور ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ نعیم الحق کابینہ میں رہیں گے اور فواد چوہدری چلے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ جس حکومت کا لیڈر کہتا ہو کہ اپوزیشن کو تکلیف پہنچائیں گے تو اپوزیشن کو تکلیف پہنچاتے پہنچاتے یہ آگ حکومت کے اپنے گھر پہنچ گئی ہے کہ حکومتی ارکان خود ایک دوسرے کو تکلیف پہنچارہے ہیں۔مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ جس حکومت کا کوئی ایجنڈا نہ ہو اور وہ اپوزیشن کو تکلیف پہنچاتے پہنچاتے، اب عوام کو تکلیف پہنچارہی ہے، وہ آگ اب ان کے گھر چلی گئی ہے۔خیال رہے کہ گزشتہ روز وفاقی وزیر برائے اطلاعات فواد چوہدری نے پی ٹی وی کی انتظامیہ سے اختلاف پر اپنی وزارت سے استعفیٰ سے متعلق میڈیا رپورٹس کو مسترد کیا تھا۔واضح رہے کہ حکومت کی میڈیا ٹیم کے مابین اختلافات 20 فروری کو منظر عام پر آئے جب فواد چوہدری نے دعویٰ کیا تھا کہ وزیراعظم کے بعض خصوصی مشیر پاکستان ٹیلی ویڑن (پی ٹی وی) کے مینجنگ ڈائریکٹر کی جانب سے بھاری تنخواہ لینے پر ان کی حمایت کررہے ہیں جبکہ پی ٹی وی شدید مالی بحران کا شکار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…