منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

زائرین نقد رقم اور سونے کے زیورات تک ڈالتے ہیں ،مزارات میں نصب چندے کی پیٹیوں سے نکلنے والی رقم کہاں جاتی ہے؟بڑا قدم اُٹھالیاگیا

datetime 25  فروری‬‮  2019 |

کراچی (این این آئی) گلوبل فاؤنڈیشن کی جانب سے محکمہ اوقاف کو 17وکلا پر مشتمل کمیٹی نے لیگل نوٹس جاری کردیا۔ تفصیلات کے مطابق گلوبل فاؤنڈیشن نے محکمہ اوقاف کو جاری کیے گئے لیگل نوٹس میں یہ استفسار کیا گیا ہے کہ محکمہ اوقاف کراچی کے مختلف مزارات کی بجلی کے بل کیوں ادا نہیں کر رہا۔ مزارات میں نصب چندے کی پیٹیوں سے نکلنے والی رقم کس کے سامنے گنتی کی جاتی ہے اور

کہاں خرچ کی جاتی ہے، اس کی فہرست فراہم کی جائے۔ مزارات کے باہر چپل، پھولوں اور چادروں کے ٹھیکے کتنے میں دیے جاتے ہیں اور یہ پیسہ کہاں خرچ ہوتا ہے۔ مزارات سے ملحق اوقاف کی دکانوں ، گھروں اور دیگر سے کرایہ کی مد میں کتنا پیسہ آتا ہے اور کہا ں خرچ ہوتا ہے۔ محکمہ اوقاف کا اپنا بجٹ کتنا ہے اور کہاں خرچ ہوتا ہے۔ اس حوالے سے چیئرمین گلوبل فاؤنڈیشن محمد احمد کا کہنا ہے کہ مزارات عوام کی عقیدت کے مراکز ہیں۔ زائرین مزارات کی پیٹی میں نقد رقم اور سونے کے زیورات تک چندہ باکس میں ڈالتے ہیں، لہذا ہر کسی کو معلوم ہونا چاہئے کہ یہ سب کہاں خرچ کی جارہی ہے۔ چندوں کی شفافیت کا یہ عالم ہے کہ جن مزارات سے چندے جمع کئے جارہے ہیں وہاں مرمتی کام نہ تو کیا جارہا ہے اور نہ ہی بجلی کے بل ادا ہو رہے ہیں۔ اس حوالے سے گلوبل فاؤنڈیشن کی 17وکلا پر مشتمل کمیٹی نے ایڈوکیٹ سپریم کورٹ ناصر رضوان خان کی قیادت میں لیگل نوٹس جاری کیا ہے جسمیں ایڈوکیٹ ہائی کورٹ ہاشم صدیقی،مرزا آصف بیگ، آفتاب یار خان، راحیل الدین، محمد اسلم ملک، سید مسرور احمد، جاوید احمد چانڈیو، زیشان اکبر علی، کامران علی کشمیری، چوہدری کاشف غفار، سمیہ طارق، خورشید شاہ، شوکت قائم خانی، جاوید صدیقی، علی محمد لاسی، شفقت مسیح سمیت دیگر وکلا شامل ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…