منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

کراچی، پولیس مقابلے کی زد میں آکر جاں بحق طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی ،افسوسناک انکشافات

datetime 24  فروری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی)شہر قائد کے علاقے میں واقع انڈہ موڑ پر پولیس مقابلے کی زد میں آکر جاں بحق طالبہ کی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے آگئی ہے، جس کے مطابق نمرہ کے سر پر لگنے والی گولی رائفل کی تھی۔پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق 23سال کی نمرہ کو رات 10بجکر21 منٹ پرجس وقت جناح اسپتال کراچی لایاگیا وہ دم توڑ چکی تھی، طالبہ کے سر کے سیدھے حصے پر گولی لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رائفل فائر آرم کی گولی لگنے سے سرپر ڈھائی سینٹی میٹر لمبا اور گہرا زخم آیا جس کی وجہ سے سر کی ہڈی میں فریکچر ہوا، مقتولہ کے متعدد ایکسرے اور سی ٹی اسکین بھی کرائے گئے۔ڈاکٹر ذکیہ کے مطابق نمرہ کو گولی قریب سے لگنے کے کوئی شواہد نہیں ملے، مقتولہ کے جسم میں لگنے والی گولی کا ثبوت نہیں ملا البتہ سر کی ہڈی ٹوٹنے سے مقتولہ کے دماغ کونقصان پہنچا جس کی وجہ سے وہ جان سے گئی، بظاہرمعلوم ہوتاہے نمرہ کوچھوٹے ہتھیارکی گولی لگی۔واضح رہے کہ 22فروری کی رات نارتھ کراچی میں واقع انڈا موڑ کے قریب پولیس اور اسٹریٹ کرمنلز کے درمیان مقابلہ ہوا تھا جس کی زد میں میڈیکل کالج کی طالبہ آگئی تھی، نمرہ کو زخمی ہونے کے بعد عباسی شہید اسپتال منتقل کیا گیا جہاں وینٹی لیٹر نہ ہونے کی وجہ سے اسے جناح اسپتال منتقل کیا گیا۔جناح اسپتال منتقل کرنے کے دوران نمرہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئی تھی جس کے بعد وہاں کی خاتون ایم ایل او (میڈیکل لیگو آفیسر)نے پوسٹ مارٹم کرنے میں تاخیر کی۔اہل خانہ نے خدشہ ظاہر کیا تھا کہ نمرہ کو پولیس اہلکار کی گولی لگی، وزیر اعلی سندھ نے طالبہ کی ہلاکت کا نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ کو ہدایت کی کہ وہ تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ جمع کرائیں اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کریں۔دوسری جانب آئی جی سندھ نے قتل کی تحقیقات کے لیے دو ڈی آئی جیز عارف حنیف، امین یوسفزئی اور دو ایس پیز نعمان صدیقی،

سمیع اللہ سومرو پر مشتمل کمیٹی تشکیل دے دی جس نے جائے وقوعہ کا دورہ کر کے عینی شاہدین کے واقعات قلم بند کیے۔تحقیقاتی کمیٹی کے اراکین نے متوفیہ کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے انصاف فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ نمرہ کا تعلق پولیس کے خاندان سے ہے مقتولہ کے دادا اور والد سندھ پولیس میں ملازم تھے۔ کمیٹی کے اراکین نے مقتولہ کے اہل خانہ اور ماموں کے بیانات بھی قلم بند کیے۔ڈی آئی جی سندھ نے تحقیقاتی کمیٹی کو تین روز میں رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…