منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

نئے پاکستان میں تاحال پرانے رواج جاری ، بزدار حکومت نے شہباز حکومت کی بنائی سرچ کمیٹی کی نامزدگیوں پر غور شروع کر دیا

datetime 21  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) نئے پاکستان میں تاحال پرانے رواج جاری ، بزدار حکومت نے پنجاب کی دونوں زرعی یونیوسٹیز کے وائس چانسلرز کی خالی آسامیوں میں تقرری کے لئے شہباز حکومت کی بنائی سرچ کمیٹی کی نامزدگیوں پر غور شروع کر دیا۔ 3 سال قبل ڈاکٹر بابر کی سربراہی میں قائم سرچ کمیٹی نے ثناء اللہ گروپ کے من پسند پروفیسر پر مشتمل پینلز کی نامزدگیاں بھیجیں ۔ جو عدالت عظمیٰ میں چیلنج کے بعد تعطل کا شکار ہیں

لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے وائس چانسلرز کی تعیناتی کے لئے کام جاری رکھنے کے جاری حالیہ حکم کے بعد بزدار حکومت نے میرٹ اور تقرریوں کے لئے نئے اخبار اشتہار اور سرچ کمیٹی کے قیام کی بجائے پرانے دور حکومت کی نامزدگیوں میں سے نام فائنل کرنے کی ٹھان لی۔ سرچ کمیٹی کی طرف سے دونوں جامعات میں بطور وائس چانسلرز نامزد کئے گئے 6 ناموں میں سے 4 دوہری شہریت کے حامل ہیں جبکہ نامزدگیاں پانے والوں میں رانا ثناء اللہ گروپ کے قریبی ڈاکٹر رانا اقرار خان اور رانا قمر کے نام بھی شامل ہیں واقفان حال کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب کمزور انتظامی کنٹرول کے سبب پنجاب کے دونوں بڑی زرعی یونیورسٹیز کے اہم عہدوں پر تقرریوں کے لئے اوپن میرٹ پر تلاش کا عمل شروع کرنے کی بجائے شہبا زشریف کی با اثر باقیات کے سا منے بے بس نظر آ رہے ہیں زرعی یونیورسٹیز کے وائس چانسلر کی خالی آسامیوں پر تقرریوں کے لئے سابق دور حکومت میں بھیجی گئی نامزدگیوں کی سمری وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں وزیراعلیٰ پنجاب کی منظوری کی منتظر ہے وزیراعلیٰ پنجاب کی طرف سے بڑی جامعات کی وائس چانسلرز کی اہم پوسٹوں پر تقرریوں کے لئے نئے سرے سے اوپن میرٹ پر اہل افراد کی تلاش شروع کرنے کی بجائے گزشتہ کی نامزدگیوں پر غور جاری رکھنے کاعمل نئے پاکستان میں پرانے روایوں کے تسلسل کی ایک جھلک ہے ۔ ماہرین تعلیم کے مطابق اگر زرعی یونیورسٹی فیصل آباد اور راولپنڈی کی وائس چانسلرز کی خالی آسامیوں میں شہباز شریف کی من پسند نامزدگیوں میں سے تقرریاں عمل لائی گئیں تویہ دونوں جامعات دشمنی کے مترادف ہو گا

کیونکہ 2017 میں دےئے گئے اخبار اشتہار امید وارکے لئے قابلیت کے معیار کا کوئی میزان نہیں د یا گیا تھا جبکہ ابتداء میں زرعی شعبے سے ماہر سرچ کمیٹی میں شامل نہ کئے جانے کے باوجود کمیٹی ک طرف سے کئی گئی نامزدگیوں پر بعد ازاں عدالت عالیہ کے احقامات کے بعدکمیٹی میں شامل کئے گئے زرعی ماہر کی طرف سے کوئی تبدیلی نہ ہونا مجوزہ پوسٹوں پر تعیناتی کے عمل کو مشکوک بنا رہے ہیں دوسری طرف سے اس سرچ کمیٹی کی طرف سے ان اہم پوسٹوں پر تعیناتی کے لئے سپریم کورٹ کے واضح احکامات کے بر عکس 6 میں سے 4 نامزدگیاں دوسری شہریت کے حامل افراد کی گئیں ہیں جس کے بعد سے وائس چانسلرز کی تلاش جاری اس عمل کو آگے بڑھانے سے کمزور بزدار حکومت کو مستقبل قریب میں مزید مشکل کا سامنا ہو سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…