منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پاکستان کے سابق چیف جسٹس اور ان کی اہلیہ گاؤں میں بچوں کو انگریزی پڑھانے میں مصروف،حیرت انگیز انکشافات

datetime 19  فروری‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)سابق چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ کہتے ہیں کہ بیشتر جج صاحبان فیصلے انگریزی میں لکھتے ہیں لیکن انہیں انگریزی نہیں آتی۔سابق چیف جسٹس پاکستان جواد ایس خواجہ جو لاہور میں بیدیاں روڈ پر ٹھیٹر گاؤں میں قائم ہر سکھ اسکول میں بچوں کو انگریزی پڑھا رہے ہیں۔اس اسکول میں ان کی اہلیہ بھی بچوں کو پڑھاتی ہیں اور ان کے نواسے اور

نواسیاں بھی اسی اسکول میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ نجی ٹی وی کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے جسٹس ریٹائرڈ جواد ایس خواجہ نے کہا کہ عدالتوں میں قومی زبان لکھی اور بولی جائے تو ملزمان کو پتہ چل سکے گا کہ عدالت میں ان سے متعلق کیا باتیں ہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ جج آئین کی پاسداری کا حلف اٹھاتے ہیں، آئین میں تو ذکر ہی قومی و صوبائی زبانوں کا ہے، اردو کو قومی زبان قرار دیا گیا ہے۔جواد ایس خواجہ نے کہا کہ جب آئین اجازت نہیں دیتا تو جج صاحبان انگریزی میں فیصلہ کیوں لکھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ بیشتر عدالتوں میں اردو کی جگہ انگریزی زبان استعمال ہوتی ہے، ملزمان کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ وکلاء4 اور جج صاحبان اْن سے متعلق کیا گفتگو کرتے ہیں۔سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ بیشتر ججز انگریزی میں فیصلے لکھتے ہیں لیکن انہیں انگریزی نہیں آتی۔تعلیمی پالیسی کے حوالے سے جواد ایس خواجہ نے کہا پاکستان میں بے شمار کمیشن بنے، حکومت خود دیکھے کہ وہ کیا کر رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر تعلیم کسی کو انسان نہیں بناتی تو وہ تعلیم نہیں ہے۔جواد ایس خواجہ کا کہنا تھا کہ انہوں نے بطور چیف جسٹس 8 ستمبر 2015ء4 کو آئین کے تحت قومی زبان اردو کو ہر جگہ بطور سرکاری زبان اپنانے کا حکم دیا تھا، اس حکم پر عمل درآمد ہو جائے تو زبان کے حوالے سے درپیش مسائل حل ہو سکتے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…