منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اپنی جوانی کو ضائع مت کر‎

datetime 3  فروری‬‮  2019 |

کسی ندی کے کنارے ایک اونچی دیوار بنی ہوئی تھی۔۔۔ اس دیوار پر ایک پیاسا آدمی بیٹھا ہوا تھا۔ پیاس کے مارے اس کی جان لبوں پر آ گئی تھی وہ دیوار اس پیاسے انسان اور اس کی پیاس کے درمیان حائل تھی! اسے جب اور کچھ نہ سوجھا تو اس شخص نے دیوار سے اینٹیں اکھیڑ کر ندی کے پانی میں پھینکنا شروع کر دیں۔

اینٹ پانی میں گرتی تو ایک آواز پیدا ہوتی، اس آواز سے وہ پیاسا انسان لطف اندوز ہو رہا تھا، وہ تو اس سریلی آواز پر عاشق ہو گیا تھا، وہ مسلسل اینٹیں پھینکتا جا رہا تھا اور اس سے اسے ایک خاص نشے کی سی کیفیت محسوس ہو رہی تھی۔ ندی کے پانی نے اس شخص سے مخاطب ہو کر کہا، اے بندہ خدا! تو مجھے اینٹیں کیوں مارے جا رہا ہے؟ تجھے اس سے کیا حاصل ہو رہا ہے؟ میں نے تیرا کیا بگاڑا ہے؟ پیاسے انسان نے جواب دیا: اے ندی کے ٹھنڈے میٹھے پانی! ایسا کرنے میں میرے دو فائدے ہیں! پہلا فائدہ تو یہ ہے کہ: اینٹ پھینکنے کے بعد جو آواز آتی ہے اس سے میرے مردہ جسم میں جان پڑ جاتی ہے! میرے لیے یہ دنیا کی سب سے سریلی آواز بن گئی ہے۔ پیاسوں کو اس آواز سے بڑا سرور ملتا ہے۔ دوسرا فائدہ یہ ہے کہ: جتنی زیادہ اینٹیں اس ندی میں گرتی جا رہی ہیں! اتنا ہی ندی کا پانی میرے قریب آتا جا رہا ہے، گویا محبوب کے وصل کا لمحہ قریب سے قریب تر ہوتا جا رہا ہے۔ غور و فکر کرنے والوں کے لئے اس میں جو پوشیدہ نکتہ ہے! وہ یہ ہے کہ: ’’نفس امارہ کی دیوار جب تک سر اٹھا کر کھڑی رہے گی وہ سجدہ کرنے میں رکاوٹ بنی رہے گی۔۔!‘‘ اے عزیز از جان۔۔! اپنی جوانی کو ضائع مت کر۔۔! اپنے اللہ کے حضور جھک جا اور نفس امارہ کی دیوار کو اکھیڑ کر پھینک دے۔۔‘‘ (حکایاتِ رومی سے منتخب کردہ حکایت بعنوان نفس امارہ کی دیوار)

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…