منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ارمان لونی کا پرتشدد قتل بزدلانہ اقدام ہے، پاکستان کو قائم رکھنا ہے تو پھر اب یہ کام کرنا ہی ہوگا، محمود خان اچکزئی نے انتباہ کردیا

datetime 3  فروری‬‮  2019 |

کوئٹہ ( آن لائن) پشتونخواملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمودخان اچکزئی نے کہا ہے کہ جب تک افغانستان اور ہندوستان کے ساتھ پرامن اور بقائے باہمی کی بنیاد پر تعلقات استوار نہیں کئے جاتے کوئی کوریڈور نہیں بن سکتا پاکستان کو قائم رکھنے کے لئے انصاف کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے لورالائی میں ارمان لونی کا پرتشدد قتل بزدلانہ اقدام ہے پشتونخواملی عوامی پارٹی اس اقدام کی بھرپور مذمت کرتے ہیں

اگر ریاست نے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کی تو اس طرح حالات ٹھیک نہیں ہونگے اور اس کے خطرناک نتائج برآمد ہونگے ہمیں بنگال سے سبق سیکھنا ہوگا ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت پشتون نوجوانوں کو ٹارگٹ کیا جارہا ہے جس کے مستقبل میں بھیانک نتائج برآمد ہونگے ان خیالات کا اظہار انہوں نے مختلف وفود سے بات چیت کرتے ہوئے کیا محمود خان اچکزئی نے کہا کہ پشتون علاقوں میں جس طرح منظم سازش کے تحت حالات کو خراب کیا جارہا ہے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مزید مسائل پیدا کریں گے پشین ‘ لورالائی ‘ قلعہ سیف اللہ اور چمن میں منظم سازش کے تحت حالات کو خراب کرکے یہاں مزید حالات کو گھمبیر کرنے کی کوشش کی جارہی ہے پاکستان کے چاروں طرف ایک خطرناک جنگ کے بادل منڈلا رہے ہیں کوئی بھی اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اس نئی جنگ میں پاکستان محفوظ رہے گا اگر ملک کے حکمران اس ملک کو چلانا چاہتے ہیں تو یہاں پر تمام قوموں کو حق کی بات کرنے کی آزادی دینا چاہئے خسور واقعے کے بعد لورالائی میں مسلسل واقعات ایک سوالیہ نشان ہیں انہوں نے کہا کہ پشتونخواملی عوامی پارٹی کسی بھی غیرجمہوری عمل کی حمایت نہیں کرے گی اور اس وقت پشتونوں کے ساتھ جو کھیل کھیلا جارہا ہے یہ ملک کے مستقبل کے لئے نیک شگون نہیں ہے پشاور اور وزیرستان کے بعد یہاں پر چن چن کر پشتون نوجواں کو نشانہ بنایا جارہا ہے حکمران ہوش کے ناخن لیں اور اپنی ناکامیوں پر پردہ ڈالنے کے بجائے حقائق کو سامنے لایا جائے

جب تک ملک میں سچ پر مبنی حقائق سامنے نہیں آئیں گے اس وقت تک ملک نہیں چلایا جاسکتا ہم سمجھتے ہیں کہ دنیا بھر کی نظریں ہمارے اوپر ہیں کہ اس ملک میں جو بھی صورتحال وہ ہمارے اپنے ہی اعمال کا نتیجہ ہے انہوں نے کہا کہ پشتونوں نے کبھی بھی دہشت گردی کو سپورٹ نہیں کیا اور نہ ہی ہمارا تعلق ہونے والے واقعات سے ہے کیونکہ پشتونوں نے ہمیشہ عدم تشدد کے فلسفہ پر عمل کیا ہے دہشت گردی جانی مسئلہ ہے انہوں نے کہا کہ اگر خطے میں امن بحال کرنا ہے تو خطے میں ہمسایہ ممالک چین ‘ ایران اور افغانستان کی سیاسی قیادت کو یہ سوچنا ہوگا کہ اب ان حالات سے چھٹکارا پانے کے لئے ایک دوسرے کے خلاف دہشت گردی کو سپورٹ نہیں کریں گے کیونکہ جب تک ہم یہ اقدام نہیں اٹھائیں گے اس وقت تک کوئی بھی ملک دہشت گردی کے خلاف کامیابی حاصل نہیں کرسکتا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…