جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

عمران خان نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خیرات اور صدقات کی رقم میں خردبرد کی ،اہم سیاسی جماعت نے انتہائی سنگین الزامات عائد کردیئے

datetime 27  جنوری‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

کراچی (آن لائن) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور وزیر بلدیات سندھ سعید غنی نے کٹھ پتلی وزیراعظم عمران خان کی طرف سے میانوالی میں اپنے خطاب کے دوران تاریخ کو مسخ کرنے کی ناکام کوشش پر ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سلیکٹیڈ وزیراعظم کو تاریخ کا علم ہی نہیں۔ عمران خان کی بدقسمتی یہ ہے کہ عقل بازار میں نہیں ملتی۔ انہوں نے کہا کہ اس سے کوئی انکار نہیں کہ قائد عوام ذوالفقار علی بھٹو شہید ایوب خان کی کابینہ میں رہے

مگر حقیقت یہ ہے کہ شہید قائدعوام شہید ذوالفقار علی بھٹو نے حکومت میں رہتے ہوئے سسٹم کے اندر رہ کر سسٹم کو تبدیل کیا کیونکہ اس وقت نہ ملک کا کوئی آئین تھا، نہ جمہوریت تھی اور نہ ہی پارلیمنٹ۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے جدوجہد سے ملک میں پارلیمانی نظام نافذ کیااور 1973ء4 کا آئین دیا۔ سعید غنی نے کہا کہ جی ہاں آصف علی زرداری کو جمہوریت کی نگہبانی اور پاسبانی ورثے میں ملی۔ آصف علی زرداری نے 1973ء4 کے آئین کو اصل صورت میں بحال کیا۔ اٹھارہویں ترمیم کے ذریعے آئین کو ضیاالحق اور پرویز مشرف کی خباثتوں سے پاک کیا۔ صوبوں کو خودمختاری دے کر اور پارلیمنٹ کو بااختیار بنا کر جمہوریت کی پاسبانی کا حق ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو اپنے نانا شہید اور والدہ شہید کا فلسفہ ورثے میں ملا۔انہوں نے کہا کہ عمران خان کو وراثت میں اپنے والد کی روایات ملیں جن کو شہید ذوالفقار علی بھٹو نے کرپشن کا الزام ثابت ہونے پر ملازمت سے فارغ کیا تھا۔ عمران خان نے اپنے والد کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خیرات اور صدقات کی رقم میں خردبرد کی اور اس عمل میں اپنی ہمشیرہ کو بھی شریک واردات رکھا۔ سعید غنی نے کہا کہ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عمران خان طلباء سے خطاب کے دوران علم کی بات کرتے نہ کی تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش کرتے۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ سلیکٹیڈ وزیراعظم مخبوط الحواس ہیں اس لئے وہ بھول جاتے ہیں کہ کونسی بات کہاں کی جائے۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…