منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

سول نافرمانی کی تحریک ، چاہتے ہیں حکومت اپنی مدت پوری کرے لیکن حکومتی وزراء کے رویے کی وجہ سے مشکل لگ رہا ہے،پیپلزپارٹی نے بڑا اعلان کردیا

datetime 27  جنوری‬‮  2019 |

سکھر(این این آئی)پاکستان پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنمااور سابق قائد حزب اختلاف سید خورشیداحمدشاہ نے کہا ہے کہ ہم چاہتے ہیں حکومت اپنی مدت پوری کرے لیکن حکومتی وزراء کے رویے کی وجہ سے یہ مشکل لگ رہا ہے، اگراپوزیشن لیڈر نہیں ہوگا توپارلیمنٹ کیسے چلے گی، ہم نہیں چاہتے کہ کوئی سول نافرمانی کی تحریک چلے، قوم کو پتہ ہے کیسے الیکشن ہوئے، ڈبے کھلے تو سب کو پتہ چل جائے گا،بنی گالہ کوریگولرائزکیا جاسکتا ہے تودیگرکوبھی کرنا چاہیے،

حکومت کا فرض ہے کہ لوگوں کوچھت فراہم کرے،وزیر اعظم عمران خان کے بیان کو لوگوں نے غلط سمجھا، انہوں نے 50 لاکھ گھر تعمیر کر کے دینے کی نہیں بلکہ گرانے کی بات کی تھی۔ اتوارکو سکھرمیں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ ملک کے اندر موجودہ سیاسی صورتحال بہتر نہیں ہے اور حکومتی وزراء کا اپوزیشن کے ساتھ رویہ درست نہیں۔ اگر اپوزیشن لیڈر اسمبلی میں نہیں آئے گا تو وزرا بھی نہیں آسکیں گے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان قرض لینے کے بجائے خود کشی کرنے کو ترجیح دیتے تھے لیکن آج قرضہ آ رہا ہے تو شامیانے بجائے جا رہے ہیں جب کہ جو قرضہ لیا جا رہا ہے اسے ہاتھ بھی نہیں لگایا جا سکتا کیونکہ یہ پیسہ صرف ذخائر میں رکھنے کے لیے ہے۔خورشید شاہ نے کہا کہ اگربنی گالہ کوریگولرائزکیا جاسکتا ہے تو دیگرکوبھی کرنا چاہیے، امیر کو چھت چاہیے توغریبوں کو بھی سرپرچھت چاہیے۔ بنی گالہ کے ریگولائزیشن ہونے پر ہمیں اعتراض نہیں اور بنی گالا اس لئے ریگولرائز ہوا کیونکہ وہاں وزیراعظم رہتے ہیں لیکن یہاں وزیراعظم کے گھر کو بچایا جا رہا ہے جب کہ غریبوں کے گھر گرائے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ عمران خان اب بھی کنٹینر سے باہر نہیں نکل رہے وہ اب بھی کرکٹ کھیلنے میں مصروف ہیں کیونکہ انہیں سیاست نہیں آتی ہے۔ عام انتخابات سے قبل پاکستان تحریک انصاف نے جو باتیں کیں حکومت میں آنے کے بعد اس کے الٹ کیا جا رہا ہے۔انہوں نے اسد عمر کی آئندہ انتخابات میں الیکشن نہ خریدنے کی بات پر کہا کہ

اسد عمر نے آرمی چیف پر براہ راست الزام عائد کر دیا ہے اور اگر اسد عمر کی بات درست ہے تو آرمی چیف کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔خورشید شاہ نے کہا کہ حالیہ بجٹ تو صنعت کاروں سے کیے گئے وعدے کے لیے تھا، صنعت کاروں کوریلیف دینا چاہیے لیکن کیا زراعت کوریلیف دیا۔انہوں نے کہا کہ حکومت کا فرض ہے کہ لوگوں کوچھت فراہم کرے جن کے پاس نہیں ہے، اگر قبضے ہیں توپھرگھرگرائے جاسکتے ہیں۔ خورشید شاہ نے کہا کہ ہم چاہتے ہیں حکومت اپنی مدت پوری کرے لیکن حکومتی وزرا کے رویے کی وجہ سے یہ مشکل لگ رہا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…