اتوار‬‮ ، 06 اپریل‬‮ 2025 

منتخب نمائندے آٹا، چینی، دال کے بھا سے انجان نکلے،پیپلزپارٹی کے رہنما رحمان ملک نے فی کلو آٹے کی اتنی قیمت بتادی کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 25  جنوری‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد( آن لائن )موجودہ حکومت اور اپوزیشن پارٹیاں دونوں ہی خود کو عوامی حقوق کا چیمپئن ثابت کرنے کی دوڑ میں پیش پیش ہیں۔ دونوں جانب سے خود کو عوام کا نجات دہندہ ثابت کیا جاتا ہے۔ عوامی مصائب میں کمی لانے کے حوالے سے دونوں جانب سے بلند و بانگ دعوے کیے جاتے ہیں۔ مگر صورتِ حال اس کے برعکس ہے۔

قومی اسمبلی کے احاطے میں کئی اراکینِ اسمبلی سے جب آٹا، چینی اور دال کا بھا پوچھا گیا تو کسی ایک سے بھی اس کا جواب نہ بن سکا۔ماضی میں پاکستان کے وزیر داخلہ رہنے والے پیپلز پارٹی کے رہنما رحمن ملک نے تو آٹے کا بھا 172 روپے فی کلو گرام قرار دے دِیا۔ ایک خاتون رکن اسمبلی نے جوابا کہا کہ میرے گھر میں تو آٹا گاں سے آتا ہے، اس لیے سچی بات تو یہ ہے کہ مجھے اس بارے میں کچھ پتا نہیں۔لاہور سے تعلق رکھنے والے شیخ روحیل اصغر نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے طنزا یہ تو کہہ دیا کہ عوام مہنگائی کے ہاتھوں پِس کر خوشی منا رہی اور نعرے لگا رہی ہے۔مگر جب ان سے دوبارہ سوال کیا گیا کہ آٹے کا بھا کیا ہے، تو وہ یہ کہہ کر کنی کتراتے ہوئے نکل گئے کہ انہیں کیا معلوم آٹے کا کیا بھا ہے۔ سیاسی مخالفین کو دبنگ لہجے میں للکارنے والی پیپلز پارٹی کی خاتون رہنما ڈاکٹر نفیسہ شاہ آٹے کے بھا کے سوال پر یہ کہہ کر وہاں سے بھاگ نکلیں کہ میں بعد میں آ کر اس سوال کا جواب دیتی ہوں۔پیپلز پارٹی کے رکنِ اسمبلی میر یوسف تالپور نے کہا کہ پتا نہیں، آٹے کی قیمت تو روز تبدیل ہوتی ہے۔پاکستان تحریک انصاف کی خاتون رکن اسمبلی زرتاج گل نے جواب دیا، پتا نہیں میں نہیں خریدتی، میری والدہ خریدتی ہیں۔ جبکہ صوبہ سرحد سے تعلق رکھنے والے تحریک انصاف کے رکن نور عالم نے تو اس سیدھے سادے سوال کو شرارت قرار دے کر کہا، یار نہ کرو۔ سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے حوالے سے عوام نے کمنٹس کرتے ہوئے کہا ہے کہ آٹے، دال اور چینی کے بھا سے بے خبر ارکانِ اسمبلی بھلا عوام کی مشکلات کیسے جان سکتے ہیں۔

موضوعات:



کالم



زلزلے کیوں آتے ہیں


جولیان مینٹل امریکا کا فائیو سٹار وکیل تھا‘…

چانس

آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…