بدھ‬‮ ، 14 اکتوبر‬‮ 2026 

وفاقی پولیس کے با اثر سب انسپکٹر کا معطلی کے باوجود ورکشاپ پر اچانک دھاوا بو ل دیا ،19 سالہ موٹرسائیکل مکینک کو سرعام سرکاری بیلٹ سے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا

datetime 25  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن)آئی جی اسلام آباد کے حکم پر معطل ہونے کے باوجود سی آئی اے میں خدمات سر انجام دینے والے وفاقی پولیس کے با اثر سب انسپکٹر ملک لیاقت نے بنگش کالونی میں واقع ورکشاپ کی دکان پر اچانک دھاوا بولتے ہوئے 19 سالہ موٹرسائیکل مکینک کو سرعام سرکاری بیلٹ سے تشدد کا نشانہ بنا ڈالا۔پولیس کے وحشیانہ تشدد سے نوجوان کے جسم پر نیل پڑگئے۔

پولیس کے وحشیانہ تشدد کے دوران موٹرسائیکل مکینک کے بڑے بھائی کی مزاحمت پر سب انسپکٹر نے اس کے ماتھے پر پسٹل تان لیا اور گولی چلانے کی کوشش کے دوران مزاحمت پرپسٹل سے میگزین سڑک پر جاگری۔پولیس گردی کے دوران آس پاس کے دکاندار اکٹھے ہوگئے اوراحتجاج شروع کردیا۔ جس پر پولیس مکینک کو وہیں چھوڑ کرواپس لوٹ گئی۔داد رسی کیلئے متاثرہ شہری کی جانب سے آئی جی اسلام آباد عامر ذوالفقار خان کو دی گئی درخواست پربھی متاثرہ شہری کو انصاف نہ مل سکا۔معلوم ہواہے کہ سی آئی اے سنٹرآئی نائن میں تعینات سب انسپکٹر ملک لیاقت ہمراہ چار پولیس اہلکاروں نے سولہ جنوری کو تقریباً اڑھائی بجے بنگش کالونی میں واقع آٹوزشاپ پر اچانک دھاوا بول دیا اور دکان پر موجود موٹرسائیکل مکینک 19سالہ عامرکو ساتھ لے جانے کی کوشش کے دوران سرکاری بیلٹ اتار کراسے بری طرح مارنا شروع کردیا۔اسی دوران دکان پر موجود مکینک کے بڑے بھائی حیدر، والدمحمد خان اورشاگرد نے مزاحمت کی توسب انسپکٹر ملک لیاقت نے حیدر نامی نوجوان کے ماتھے پر سرکاری پسٹل رکھ کر فائر کرنے کی دھمکی دی۔اسی گتھم گتھا کے دوران پسٹل سے میگزین نکل کر سڑک پر گرگئی۔پولیس گردی کے دوران آس پاس کے راہگیراور دکاندار بھی جمع ہوگئے اور پولیس کے رویہ کے خلاف احتجاج شروع کردیاجس پر پولیس کو چاروناچار مکینک کو وہیں چھوڑ کر واپس لوٹنا پڑ گیا۔پولیس تشدد سے نوجوان مکینک کی کمرسمیت جسم کے مختلف حصوں پر نیل پڑ گئے۔

پولیس گردی کے خلاف متاثرہ نوجوان کے ورثاء4 نے آئی جی اسلام آباد کو انصاف کے حصول کیلئے درخواست دی جس پر آئی جی نے واقعہ کی انکوائری ڈی ایس پی سی آئی حاکم خان کو سونپ دی۔متاثرہ شہری کے مطابق جب وہ ڈی ایس پی سی آئی اے کے آفس میں گئے تو انہوں نے سب انسپکٹر ملک لیاقت کو بلایا اور ان سے کہا کہ آپس میں صلح کر لیں۔متاثرہ نوجوان کے ورثاء4 کا کہنا ہے کہ پولیس نے ہمیں زبردستی صلح پر مجبور کیا ہے۔ ہم نے کوئی صلح نہیں کی ہے اور انہیں انصاف چاہئے۔

جب اس ھوالے سے ایس پی انوسٹی گیشن مصطفی تنویر سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ ملک لیاقت نامی سب انسپکٹر کو آ?ی جی صاحب نے معطل کیا ہوا ہے اور اسکے خلاف انکوائری بھی ہو رہی ہے انہوں نے کہا کہ معطل اہلکار کوئی خدمات سرانجام نہیں دے سکتا چیک کیا جائے گا اور اگر ایسا ہوا تو اس کے خلاف مزید کاروائی کی جائے گی۔ تاہم دو سری طرف ڈی ایس پی سی آئی اے حاکم خان کا کہنا ہے کہ درخواست میرے پاس آئی ہے تاہم متاثرہ شہری کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس کا تعلق جرائم پیشہ افراد سے ہے اور پولیس والوں نے کسی قسم کا اس پر تشدد نہیں کیا ڈی ایس پی کے مطابق ملزم اپنا جرم بچانے کیلئے پولیس کو بلیک میل کر رہا ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…