پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

بڑا ظلم ہوا، پولیس کو کیسے اختیار ہے سیدھی گولیاں چلائے،سانحہ ساہیوال جیسا واقعہ دوبارہ نہیں ہونا چاہیے ‘ ہائیکورٹ نے دھماکہ خیز قدم اٹھاتے ہوئے کسے طلب کرلیا؟

datetime 24  جنوری‬‮  2019 |

لاہور (سی پی پی )سانحہ ساہیوال کی جوڈیشل انکوائری کے لیے آج لاہور ہائیکورٹ میں درخواست پر سماعت ہوئی۔چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس سردار شمیم احمد خان نے شاہین پیرزادہ اور ایڈووکیٹ آصف کی درخواست پر سماعت کی جس کے بعد کیس کی آئندہ سماعت کے لیے دو رکنی بنچ تشکیل دے دیا گیا۔دوران سماعت چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اب تک کیا انوسٹٹیگیشن ہوئی ہے؟

جس پر درخواست گزار کے وکیل نے بتایا کہ مکمل گواہوں کے بیانات ریکارڈ نہیں کیے گئے۔ واقعے کے حوالے سے چیف جسٹس نے آئی جی پنجاب کو کہا کہ یہ بڑے ظلم کی بات ہے پولیس کو کیسے اختیار ہے کہ وہ سیدھی گولیاں چلائے۔اس پر آئی جی پنجاب نے بتایا کہ گولیاں چلانے والوں کو گرفتار کر لیا گیا اور اس معاملے پر مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بھی بنا دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ محکمہ انسداد دہشت گردی کے افسران کو بھی معطل کر دیا گیا ہے۔چیف جسٹس نے سوال کیا کہ واقعے کی انکوائری کتنے دن میں مکمل ہو گی مجھے ٹائم بتائیں۔ جس پر آئی جی پنجاب نے جواب دیا کہ انویسٹیگیشن کے لیے کم از کم 30 دن کا وقت درکار ہے۔جسٹس سردرا شمیم احمد خان نے آئی پنجاب کو ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے پنجاب میں اس طرح کا واقع دوبارہ نہیں ہونا چاہئے۔ تمام ڈی پی اوز کو آگا کر دیں۔چیف جسٹس نے کہا کہ جوڈیشل کمیشن بنانے کا اختیارصوبائی نہیں بلکہ وفاقی حکومت کے پاس ہے۔چیف جسٹس نے آئندہ سماعت پر جے آئی ٹی کے سربراہ کو ریکارڈ سمیت ہائی کورٹ میں طلب کر لیا۔ واضح رہے وزیراعظم عمران خان بھی سانحہ ساہیوال پر جوڈیشل کمیشن بنانے پر تیار ہو گئے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ انسانی المیہ ہے اس کو مثالی بنائیں گے۔اپوزیشن کے مطالبے پر جوڈیشل کمیشن بنانے پر تیار ہیں۔اپوزیشن اپنے ممبرز دینا چاہے تو دے سکتی ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے ساہیوال کے واقعے پر پیش کی گئی رپورٹ پر اطمینان کا اظہار کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…