بدھ‬‮ ، 18 فروری‬‮ 2026 

نئے پاکستان سے بہتر پرانا پاکستان تھا، کم از کم شہبازشریف تو پہنچ جاتے تھے ،باتیں بہت مگرعثمان بزدار نے گھر آنا گوارہ نہ کیا،خلیل کے والد، بہنیں ،کزنزپی ٹی آئی حکومت پربرس پڑے ، سارا سارا دن رونے میں گزرنے لگا

datetime 23  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ساہیوال واقعے  میں جاں بحق ہونے والے خلیل کے والد محمد بشیر نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ نے کئی گھنٹے لے لیے لیکن قاتلوں نے میرے بیٹے کو مارنے میں تو ایک منٹ لگا یا ،مثالی انصاف فرا ہم کرنے والے اپنے اہلکاروں کا تحفظ کر رہے ہیں ،سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کو معطل کرنے سے متاثرہ خاندان کو انصاف کیسے مل سکتا ہے ؟

حکومت پیسوں کا لالچ دیکر ہما ری بولی لگا رہی ہے ،جب کسی کو مارنا ہوتا تب کوئی اجلاس نہیں اور جب کوئی مر جائے تو اجلاس کے بہانوں سے متاثرہ لوگوں کو بہلایا جا تا ہے ،جے آئی ٹی کے ممبران نے مزید وقت مانگا ہم دینے کو تیار ہیں لیکن ہمیں انصاف چاہیے ،اگر انصاف نہ دیا تو دوبارہ نہ ختم ہونے والا احتجاج شروع کر دیں گے ،روزنامہ دنیا کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ میرا بیٹامجھے روزانہ دبا کر سوتا تھا ،مجھے شادی پر جانے کے لیے نئے سوٹ ،جیکٹ اور شوز لیکر دیئے لیکن ا سے پہن کر دکھا نہ سکا ،بہنوں نے انصاف کی فرا ہمی تک کچھ کھانے پینے سے انکار کر دیا۔جے آئی ٹی کی رپورٹ نے ہمیں مایوس کیا ہے ۔مقتول کے کزن عبدالحمید ،محمد نیاز کا کہنا تھا کہ نئے پا کستان سے بہتر پرا نا پا کستان تھا ،گزشتہ ادوار میں جب بھی کوئی ایسا سانحہ ہوتا تو سابقہ وزیر اعلی ٰ فوراً متاثرہ خاندان کے گھر پہنچتے لیکن موجودہ حکومت تو سو رہی ہے اگر ان کے گھروں میں ایسا واقع پیش آئے تو انہیں احساس ہو ،وزیر اعلیٰ کی جانب سے ٹی وی پر بہت بیانات دیئے گئے لیکن متاثرہ خاندان کے گھر چکر لگا نے کی زحمت نہ کر سکے ۔خلیل کی بہنوں آ سیہ بی بی اور سمینہ بی بی کا کہنا تھا کہ آج سارا دن ہما رے رونے دھونے میں گزرا جبکہ ہما رے بھائی کے بچے اپنے والدین کا پوچھ رہے ہیں لیکن ہما رے پاس کو ئی جواب نہیں ۔ہمیں انصاف چاہئے ۔



کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…