بدھ‬‮ ، 07 جنوری‬‮ 2026 

نئے پاکستان سے بہتر پرانا پاکستان تھا، کم از کم شہبازشریف تو پہنچ جاتے تھے ،باتیں بہت مگرعثمان بزدار نے گھر آنا گوارہ نہ کیا،خلیل کے والد، بہنیں ،کزنزپی ٹی آئی حکومت پربرس پڑے ، سارا سارا دن رونے میں گزرنے لگا

datetime 23  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ساہیوال واقعے  میں جاں بحق ہونے والے خلیل کے والد محمد بشیر نے کہا ہے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ نے کئی گھنٹے لے لیے لیکن قاتلوں نے میرے بیٹے کو مارنے میں تو ایک منٹ لگا یا ،مثالی انصاف فرا ہم کرنے والے اپنے اہلکاروں کا تحفظ کر رہے ہیں ،سی ٹی ڈی کے اہلکاروں کو معطل کرنے سے متاثرہ خاندان کو انصاف کیسے مل سکتا ہے ؟

حکومت پیسوں کا لالچ دیکر ہما ری بولی لگا رہی ہے ،جب کسی کو مارنا ہوتا تب کوئی اجلاس نہیں اور جب کوئی مر جائے تو اجلاس کے بہانوں سے متاثرہ لوگوں کو بہلایا جا تا ہے ،جے آئی ٹی کے ممبران نے مزید وقت مانگا ہم دینے کو تیار ہیں لیکن ہمیں انصاف چاہیے ،اگر انصاف نہ دیا تو دوبارہ نہ ختم ہونے والا احتجاج شروع کر دیں گے ،روزنامہ دنیا کے مطابق ان کا کہنا تھا کہ میرا بیٹامجھے روزانہ دبا کر سوتا تھا ،مجھے شادی پر جانے کے لیے نئے سوٹ ،جیکٹ اور شوز لیکر دیئے لیکن ا سے پہن کر دکھا نہ سکا ،بہنوں نے انصاف کی فرا ہمی تک کچھ کھانے پینے سے انکار کر دیا۔جے آئی ٹی کی رپورٹ نے ہمیں مایوس کیا ہے ۔مقتول کے کزن عبدالحمید ،محمد نیاز کا کہنا تھا کہ نئے پا کستان سے بہتر پرا نا پا کستان تھا ،گزشتہ ادوار میں جب بھی کوئی ایسا سانحہ ہوتا تو سابقہ وزیر اعلی ٰ فوراً متاثرہ خاندان کے گھر پہنچتے لیکن موجودہ حکومت تو سو رہی ہے اگر ان کے گھروں میں ایسا واقع پیش آئے تو انہیں احساس ہو ،وزیر اعلیٰ کی جانب سے ٹی وی پر بہت بیانات دیئے گئے لیکن متاثرہ خاندان کے گھر چکر لگا نے کی زحمت نہ کر سکے ۔خلیل کی بہنوں آ سیہ بی بی اور سمینہ بی بی کا کہنا تھا کہ آج سارا دن ہما رے رونے دھونے میں گزرا جبکہ ہما رے بھائی کے بچے اپنے والدین کا پوچھ رہے ہیں لیکن ہما رے پاس کو ئی جواب نہیں ۔ہمیں انصاف چاہئے ۔

موضوعات:



کالم



سائرس یا ذوالقرنین


میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…

اسے بھی اٹھا لیں

یہ 18 اکتوبر2020ء کی بات ہے‘ مریم نواز اور کیپٹن…

جج کا بیٹا

اسلام آباد میں یکم دسمبر کی رات ایک انتہائی دل…

عمران خان اور گاماں پہلوان

گاماں پہلوان پنجاب کا ایک لیجنڈری کردار تھا‘…