منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

6 ماہ میں بینکوں سے حاصل کردہ حکومتی قرضوں میں انتہائی تشویشناک اضافہ،مجموعی قرضوں کی مالیت کتنے ہزار ارب تک پہنچ گئی، اسٹیٹ بینک نے تفصیلات جاری کردیں

datetime 22  جنوری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران حکومت کے بینکنگ سیکٹر سے حاصل کردہ قرضوں کی مالیت میں 485 ارب روپے کا اضافہ ہوا۔اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے جاری ہونے والے اعدادوشمار میں بتایا گیا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی کے دوران حکومت کے بینکنگ سیکٹر سے حاصل کردہ قرضوں کی مالیت میں 485 ارب روپے کا اضافہ ہوا اور مجموعی قرضوں کی مالیت 10 ہزار 777 ارب 76کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعدادوشمار کے مطابق حکومت نے پہلی ششماہی کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان سے ایک ہزار 250ارب روپے کے نئے قرضے حاصل کیے جبکہ کمرشل بینکوں سے قرض گیری کا رجحان کم ہوگیا۔ حکومت نے اسٹیٹ بینک پر انحصار بڑھاتے ہوئے کمرشل بینکوں کو ان کے قرضے لوٹائے جس کی وجہ سے شیڈول بینکوں کے حکومت پر قرضوں کی مالیت 764ارب 80کروڑ روپے کمی سے 5ہزار 927ارب 2کروڑ روپے کی سطح پر آگئی۔پہلی ششماہی کے دوران سرکاری اداروں کو جاری کردہ قرضوں کی مالیت میں 117ارب 43کروڑ روپے کا اضافہ ہوا ان اداروں میں خسارے میں چلنے والے سرکاری ادارے پی آئی اے، پاکستان ریلوے، پاکستان اسٹیل و دیگر شامل ہیں۔ پہلی ششماہی کے دوران نجی شعبہ کے لیے جاری کردہ کاروباری قرضوں کی مالیت میں 506ارب 73کروڑ روپے کا اضافہ ہوا اور نجی شعبے کے مجموعی قرضے 5ہزار 101ارب 43کروڑ روپے کی سطح تک پہنچ گئے۔چھ ماہ کے دوران بینکوں نے کنزیومر فنانسنگ کی مد میں 29ارب 76کروڑ روپے کے نئے قرضے جاری کیے جس کے بعد مجموعی صارف قرضوں کی مالیت 505ارب 77کروڑ 10لاکھ روپے کی سطح تک پہنچ گئی.اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق حکومت نے پہلی ششماہی کے دوران اسٹیٹ بینک سے ایک ہزار 250 ارب روپے کے نئے قرضے حاصل کیے جبکہ کمرشل بینکوں سے قرض گیری کا رجحان کم ہوگیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…