پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

میں جوتا مار دوں گا یا پھر۔۔! حامد میر کے عثمان بزدار کی جانب سے سانحہ ساہیوال کے متاثرہ بچے کو پھول دینے پرریمارکس کے بعد عوام کا شدید ردعمل سامنے آگیا

datetime 22  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) میں جوتا مار دوں گا یا پھر۔۔! حامد میر کے عثمان بزدار کی جانب سے سانحہ ساہیوال کے متاثرہ بچے کو پھول دینے پرریمارکس کے بعد عوام کا شدید ردعمل سامنے آگیا،سوشل میڈیا صارفین نے حامد میر کو ان کے ریمارکس پر شدید تنقید کا نشانہ بناڈالا ، ایک صارف نے کہا کہ یہی حامد میر شریفوں کی تعریفیں کرتے رہے جنہوں نے ہمیشہ مقتولوں کی تذلیل کی ،ایک اورصارفین نے کہا کہ عثمان بزدار شریف انسان ہے ، ایک اور صارف نے کہا کہ جب شہبازشریف نے

معصوم زینب کے غمزدہ والد کو ساتھ بٹھاکرتالیاں بجائی تھیں تو حامد میر کادل اس وقت کیوں نہ چاہا کہ شہبازشریف کو تھپڑ مارے؟کل سے عثمان بزدار کے پھولوں پر تنقید کررہے ہیں،محمد دین بلوچ نے حامد میر پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حامد میر صاحب آپ نے ان لوگوں کو کتنے تھپڑ مارے ہیں جنہوں نے کراچی میں آپ کو پھول /گلدستے پیش کیے.ملزم تو آپ کبھی گرفتار نہیں ہوئے؟حملہ تو آپ پر بھی قاتلانہ تھا.پھر حماقت کیوں ؟یا عثمان بزدار کو شریف دیکھ کر آپ بھی یوسف کے خریدار بنے. ؟ واضح رہے کہ حامد میر نے اس سے قبل کہا تھا کہ گلدستہ کہاں پیش کرنا ہے اور کسے پیش کرنا ہے کیا وزیراعلیٰ یہ بھی نہیں جانتے، اس حوالے سے سینئر تجزیہ کار حامد میر سے جب نجی وی چینل کے اینکر نے گفتگو کی اور پوچھا کہ آپ اس معاملے میں کیا کہیں گے تو انہوں نے کہا کہ میں ہوش میں ہوں گا تو عیادت کے لیے پھول لے کے آنے والے کو میں یا تو جوتا مار دوں گا یا پھر اس کے منہ پر تھپڑ ماروں گا اور کہوں گا کہ یہاں سے چلے جاؤ۔ تمہیں تمیز نہیں ہے کہ میرا باپ مر گیا ہے میری ماں مر گئی ہے اور تم میرے لیے پھول لے کر آ گئے ہو، معروف صحافی نے کہاکہ بچہ کیونکہ زخمی تھا اور وہ سویا ہوا تھا اس کو پتہ نہیں تھا کہ وزیراعلیٰ میرے زخموں کا مذاق اڑانے کے لیے پھول لے کر آ گیا ہے، حامد میر نے کہا کہ میں تو اس پر یہی کہہ سکتا ہوں کہ وزیراعلیٰ کی عقل اور فہم و فراست فوت ہو گئی ہے اور وہ اپنی عقل و فہم و فراست کی تدفین کے موقع پر آئے تھے اور

اپنی عقل اور فہم و فراست کی قبر پر پھول چڑھا رہے تھے، کیونکہ اس طریقے سے کسی کے غم و دکھ کا مذاق اڑاتے ہوئے میں نے تو کسی کو نہیں دیکھا، اور حیرانی یہ ہے کہ ان کے اردگرد بیورو کریٹس کے چہرے آپ دیکھیں ان کے چہرے پر تکلیف کے آثار نظر نہیں آئیں گے جو کہ ہر پاکستانی کے چہرے پر تھے۔ معروف صحافی نے کہا کہ یہ صبح کا واقعہ تھا اور وزیراعلیٰ پنجاب رات کو ساہیوال پہنچے ہیں اور ان کو پتہ نہیں تھا کہ اس بچے کے باپ اور ماں مارے جا چکے ہیں،

وہ پھول کس بات کے لے کر آئے ہیں، انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب نے جو حرکت کی ہے میں سمجھتا ہوں یہ کسی انسان کسی بچے کے دکھوں کا مذاق اڑانے کے مترادف ہے انہیں اس شرمناک حرکت پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے، ہم یہ کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ کا تعلق جنوبی پنجاب کے ساتھ ہے، ان کا تعلق مڈل کلاس سے ہے، پہلی دفعہ وزیراعلیٰ بنے ہیں، انہوں نے کہا کہ چھ ماہ ہو چکے ہیں عثمان بزدار کو وزیراعلیٰ بنے ہوئے لیکن کوئی بھی انسان جس میں ذرا سی بھی عقل ہو کہ

کسی کے گھر میں لاشیں ہوں، اس کے ماں باپ اور بہن کو مار دیا گیا ہو، خود وہ ہسپتال میں پڑا ہو تو اس کے پاس جا کر تعزیت کی جاتی ہے بچہ ہو تو اسے دلاسا دیا جاتا ہے اور پیار کیا جاتا ہے، یہ کیا بات ہوئی کہ آپ وہاں پھول لے کر چلے گئے ہیں اور پھر وہ بچہ سویا ہوا ہے اور ان کی طرف دیکھ بھی نہیں رہا اور اس کے اوپر پھول رکھ رہے ہیں اور تصویریں کھنچوا رہے ہیں اور پھر یہ تصویر میڈیا کو بھی ریلیز کر دی گئی ہے، میں تو یہی کہہ سکتا ہوں کہ ان صاحب کی اپنی عقل کی قبر بن گئی ہے اور

یہ اپنی قبر اور فہم و فراست پر پھول چڑھا رہے ہیں۔ بچے کو پھول نہیں دے رہے، حامد میر نے کہا کہ اس سی ٹی ڈی کو بے لگام بھی شہباز شریف نے کیا تھا، آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ 23 جون 2010ء4 کو جو پنجاب کی سی آئی ڈی تھی اس کو شہباز شریف نے سی ٹی ڈی بنایا تھا اور پھر اس سی ٹی ڈی کو انہوں نے ترکی سے ٹریننگ دلوائی، پھر اس سی ٹی ڈی کو بہت سارے اختیارات دیتے ہوئے بے لگام کر دیا، یہ سی ٹی ڈی پنجاب کے مختلف علاقوں سے بے گناہ لوگوں کو

اٹھا کر جعلی مقابلوں میں قتل کرتی رہی، شہباز شریف کے زمانے میں بھی یہی کچھ ہوتا تھا لیکن وہ بڑے سمجھدار تھے چالاک تھے، کبھی اس طرح نہیں کیا کہ کبھی کسی کے بے گناہ ماں باپ کو قتل کر دیا تو جا کر اس کو پھول پیش کر دیے ہوں اس حساب سے وہ بہت سمجھدار تھے، انہوں نے کبھی پھول نہیں پیش کیے، معروف صحافی نے کہا کہ لیکن میں اس رائے سے اتفاق نہیں کرتا کہ وہ بہت اچھے انسان تھے اور عثمان بزدار بہت برا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…