بدھ‬‮ ، 14 اکتوبر‬‮ 2026 

کل ہماری نیت پر شک کیاجارہا تھا اور آج ہماری کوششوں کو سراہا جارہا ہے،پاکستان نے افغانستان سے متعلق بڑا اعلان کردیا

datetime 22  جنوری‬‮  2019 |

دو حہ (این این آئی)و زیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغان لوگ ماضی کی رنجشیں بھلا کر اپنے ملک کے مستقبل کیلئے جب تک نہیں سوچیں گے، پاکستان تنہاء کچھ نہیں کرسکتا،سینئر امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی پریس کانفرنس دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کا عمل آگے بڑھنے کی عکاسی ہے،دنیا امن ومصالحت میں پاکستانی کوششوں کو سراہتے ہوئے سمجھتی ہے کہ

اس عمل میں پاکستان کا اہم کردار ہوگا،ہم خواہ کتنی ہی نیک نیتی کا مظاہرہ کریں لیکن مسئلے کے حل کے لئے افغان لوگوں کو خود مل بیٹھنا ہوگا،کل ہماری نیت پر شک کیاجارہا تھا اور آج ہماری کوششوں کو سراہا جارہا ہے، یہ کتنی بڑی تبدیلی ہے۔ منگل کو وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے پاک امریکہ تعلقات کے حوالہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ وزارت خارجہ کی ذمہ داری سنبھالنے پر دونوں ممالک کے تعلقات میں موجودکشیدگی ختم، تعلقات ازسر نو بہتر بنانے کے مقصد میں کامیابی ہوئی۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ سینئر امریکی سینیٹر لنزے گراہم کی پریس کانفرنس دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کا عمل آگے بڑھنے کی عکاسی ہے۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ کل تک جو انگلیاں اٹھاتے تھے، آج تعریف کے کلمات کہہ رہے ہیں۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے عمران خان کی ملاقات کی خواہش کا اظہار کیاجارہا ہے۔وزیر خارجہ نے کہاکہ ایک عارضی (ٹرانزیکشنل) تعلق کے بجائے پاک امریکہ سٹرٹیجک پارٹنر شپ کی طرف بڑھنے کی خواہش ظاہر کی جارہی ہے۔وزیرخارجہ نے کہاکہ سینیٹر لنزے گراہم نے دونوں ممالک میں سٹرٹیجک تعلقات کی طرف بڑھنے کے بہت سے اشارے بھی دئیے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکی سینیٹر نے عمران خان سے اتفاق کیا ہے کہ افغانستان کے مسئلے کا کوئی

فوجی حل نہیں ۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آج دنیا عمران خان کی افغانستان کے سیاسی حل کی بات سے اتفاق کرتے ہوئے تسلیم کررہی ہے کہ وہ درست کہتے تھے۔وزیرخارجہ نے کہاکہ دنیا امن ومصالحت میں پاکستانی کوششوں کو سراہتے ہوئے سمجھتی ہے کہ اس عمل میں پاکستان کا اہم کردار ہوگا۔وزیرخارجہ نے کہاکہ امریکی سینیٹر پر واضح کیا کہ افغانستان میں ہم اپنا کردار ادا کررہے ہیں اور کریں گے لیکن یہ مشترکہ ذمہ داری ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ

مسئلے کے حل کئے لئے پاکستان کے ساتھ خطے کے دیگر ممالک کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔وزیر خارجہ نے کہاکہ ہم خواہ کتنی ہی نیک نیتی کا مظاہرہ کریں لیکن مسئلے کے حل کے لئے افغان لوگوں کو خود مل بیٹھنا ہوگا۔شاہ محمود قریشی نے کہاکہ افغان لوگ ماضی کی رنجشیں بھلا کر اپنے ملک کے مسقبل کے لئے جب تک نہیں سوچیں گے، پاکستان تنہاء کچھ نہیں کرسکتا۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ یہ آسان کام نہ تھا اور نہ ہے لیکن ہم نے کوشش کی۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ نہ صرف امریکہ بلکہ یو اے ای، سعودی عرب،قطر، ایران، ماسکو اور چین بھی پاکستان کا کردار سراہتے ہیں۔وزیر خارجہ نے کہاکہ ہماری کوششوں اورعلاقائی رسائی کو سراہا جارہا ہے اورپاکستان نیت نیتی سے آگے بڑھ رہا ہے۔وزیر خارجہ نے کہاکہ کل ہماری نیت پر شک کیاجارہا تھا اور آج ہماری کوششوں کو سراہا جارہا ہے، یہ کتنی بڑی تبدیلی ہے۔



کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…