پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

نام نہاد مدینہ کی ریاست میں والدین کو بچوں کے سامنے قتل کیا جاتا ہے، کوئی پوچھنے والا نہیں،حکومت پر بڑے سوال اُٹھادیئے گئے

datetime 21  جنوری‬‮  2019 |

کوئٹہ(آن لائن)جمعیت علماء اسلام کے مرکزی سیکرٹری ج جنرل و سینیٹرمولانا عبدالغفور حیدری نے سانحہ ساہیوال کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نام نہاد مدینہ کی ریاست میں والدین کو بچوں کے سامنے قتل کیا جاتا ہے اور کوئی پوچھنے والا نہیں بدقسمتی کا یہ عالم ہے کہ متاثرہ خاندان سے اظہار ہمدری کے بجائے ان کے پیاروں کو دہشت گرد بنایا جا رہا ہے سارا ملک اس اقدام سے مضطرب کا شکار ہے اب کے بار مذمت اور مجروموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کی باتوں کے بجائے عملی طور پر ٹھوس اقدامات اٹھانے ہوں گے

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پارلیمنٹ چیمبر میں ملنے والے وفود سے بات چیت کے دوران کیا مولانا عبدالغفور حیدری نے کہا کہ دھاندلی زدہ انتخابات کے نتیجہ میں آنے والی ناجائز حکومت میں موجود حکمرانوں نے عوام سے جو وعدے کئے تھے وعدہ خلافی کرتے ہوئے وطن عزیز میں رہنے والے شریف شہریوں کی زندگی کو آسان بنانے کے بجائے اجیرن بنا دی نام نہاد مدینہ کی ریاست میں شہری بچوں کے ساتھ نکلنے سے ڈرنے لگے ہیں کیونکہ پتہ نہیں کب کہاں سے انہیں دہشت گرد کے نام پر مار دیا جائے اور کوئی پوچھنے والا نہیں ہو ساہیوال میں جس طرح انسانیت سوز واقعہ پیش آیا ہے اس سے ملک بھر میں بسنے والے عوام غمزدہ ہیں کوئی بھی ذی شعور انسان اس واقعہ کے حق میں نہیں ہے سیکورٹی کے نام پر لوگوں کو دن دیہاڑے بچوں کے سامنے قتل کر نا انتہائی شرمناک اقدام ہے حکمران طفل تسلیوں کے بجائے ٹھوس اقدامات اٹھائیں اور واقعہ میں ملوث عناصر کے خلاف بھر پور کارروائی عمل میں لائی جائے تا کہ آئندہ کوئی بھی اس طرح کا قدم اٹھانے سے قبل دس بار سوچے انہوں نے کہا کہ حکمران اپنی ذاتی مصروفیات میں مشغول ہیں وہ اچھے اور برے کی تمیز کھو چکے ہیں ساہیوال واقعہ کو آسانی سے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا حکومتی ناکامی اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتی ہے کہ وہ اب تک واضح موقف دینے سے قاصر ہے ہم پارلیمنٹ ہاؤس میں صرف دعا خیر اور فاتح خوانی کے لئے نہیں بیٹھے ہیں آج اس ایوان سے بیک آواز ہو کر ایک موثر پیغام دینا چاہئے اور یہ پوچھا جائے کہ جرائم پیشہ لوگوں کو سی ٹی ڈی میں کیسے بھرتی کیا گیا اور متعلقہ واقعہ کن اداروں رپورٹ کی بنیاد پر کیا گیا ہے اس کی تحقیقات سامنے لائی جائیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…