منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

سانحہ ساہیوال،زخمی بہن بھائی صحت یابی پر جنرل ہسپتال سے ڈسچارج ، کونسلنگ کیلئے خاتون سائیکارٹسٹ تعینات ، روزانہ کی ڈیوٹی لگادی گئی

datetime 21  جنوری‬‮  2019 |

لاہور(این این آئی) ساہیوال کے افسوسناک واقعہ میں زخمی ہونے والے بہن بھائی کو صحت یابی کے بعد لاہور جنرل ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ،سوموار کے روز پرنسپل پروفیسر محمد طیب کی موجودگی میں 6رکنی میڈیکل بورڈ نے ان بچوں کا تفصیلی معائنہ کیا اور انہیں جسمانی طور پر فٹ قرار دے کر گھر بھیجنے کی سفارش کی۔

میڈیکل بورڈ میں پروفیسر فاروق افضل ،پروفیسر الطاف قادر ، پروفیسر آغا شبیر علی ،ایسوسی ایٹ پروفیسر آمنہ جاوید ،ایم ایس ڈاکٹر محمود صلاح الدین اور ڈائریکٹر ایمرجنسی ڈاکٹر رانا محمد شفیق شامل تھے ۔ اس موقع پر بچوں کے عزیز و اقارب نے تسلی بخش علاج معالجے اور خصوصی دیکھ بھال کرنے پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا۔ پروفیسر محمد طیب نے بچوں کے عزیز و اقارب کو یقین دلایا کہ عمیر خلیل اور منیبہ خلیل کی مکمل نفسیاتی دیکھ بھال کیلئے لیڈی ڈاکٹر تعینات کر دی گئی ہے جو روزانہ کی بنیاد پر اُن کے گھر جا کر بچوں کی نفسیاتی طور پر کونسلنگ کریں گی تاکہ ان دونوں بچوں کو اس ذہنی صدمے سے نکالا جا سکے ، انہوں نے کہا کہ بچوں کیلئے بلا شبہ انتہائی تکلیف دہ مرحلہ ہے جس سے نمٹنے کیلئے انہیں نفسیاتی ڈاکٹر کی ضرورت ہے جس کا باقاعدہ بندوبست کر دیا گیا ہے۔پرنسپل پروفیسر محمد طیب نے مزید کہا کہ آئندہ بھی اگر ان بچوں کو میڈیکل چیک اپ کرانے کی ضرورت ہوئی تو فوری طور پر ہسپتال انتظامیہ سے رابطہ کریں انہیں گاڑی کے ذریعے لانے اور لے جانے کا بندو بست کیا جائے گا ،انہوں نے بچوں کے عزیز و اقارب کواپنے بھرپور تعاون کی پیشکش کی ،انہوں نے کہا کہ مشکل کی اس گھڑی میں غمزدہ خاندان کیلئے جو کچھ ہو سکا وہ کیا اور آئندہ بھی جنرل ہسپتال کے ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل سٹاف کی خدمات اُن کیلئے حاضر ہیں ۔میڈیکل سپرٹینڈنٹ ایل جی ایچ ڈاکٹر محمود صلاح الدین نے بتایا کہ دونوں بچوں کو ان کے چچا محمد جلیل کے حوالے کیا گیا ہے جو سوموار کی سہ پہر انہیں گھر لے گئے ہیں۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…