پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

’’ میں کسی کو پھانسی نہیں دے سکتا ‘‘صحافیوں کے سوال پر عثمان بزداربھڑک اٹھے ،انصاف کیلئے کیا کہہ کر ٹال دیا؟

datetime 21  جنوری‬‮  2019 |

لاہور(وائس آف ایشیا)وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار نے کہا کہ واقعہ کی اطلاع موصول ہوتے ہی میں ساہیوال پہنچ گیا۔ انہوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ میں میانوالی تھا جب واقعہ کی اطلاع موصول ہوئی۔ واقعہ پر اعلیٰ سطح کی جے آئی ٹی تشکیل دے دی ہے۔ جے آئی ٹی کو تحقیقات کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔ جے آئی ٹی کو دی جانے والی ڈیڈ لائن کل شام پانچ بجے ختم ہو جائے گی۔

جے آئی ٹی کی رپورٹ کل شام پانچ بجے آئے گی تو کارروائی ہو گی۔ جے آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے فوری بعد ایک اور میٹنگ کریں گے۔ میں کسی کو پھانسی نہیں لگا سکتا۔ انکوائری رپورٹ کا انتظار کریں پھر دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب صبر سے کام لیں ، آپ سب دیکھیں گے کہ ہم نے کیا کیا ہے۔وزیراعلیٰ پنجاب کا کہنا تھا کہ متاثرہ خاندان کو دو کروڑ روپے دینے اور بچوں کی کفالت کا ذمہ اْٹھانے کا اعلان کیا ہے۔سانحہ ساہیوال میں وزیراعلیٰ پنجاب نے پْھرتی دکھائی اور زخمی بچوں کی عیادت کو پہنچے، انہوں نے واقعہ کا نوٹس لے کر کارروائی میں ملوث سی ٹی ڈی اہلکاروں کی گرفتاری کا حکم بھی دیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان زخمی عمیر خلیل کی عیادت اور والدین اور بہن کی ہلاکت پر اظہار تعزیت کے لیے اسپتال پہنچے تو بچوں کی کفالت کی ذمہ داری اْٹھانے کا اعلان کیا جس ان کے اس اعلان کی خوب پذیرائی کی گئی لیکن یہاں وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی ایک حرکت نے انہیں مشکل میں ڈال دیا۔اسپتال میں زیر علاج والدین اور بہن کا ساتھ کھو دینے والے عمیر کی عیادت کو جانے پر وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار اپنے ساتھ پھولوں کو گلدستہ بھی لے گئے اور لے جا کر بچے کے پاس رکھ دیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی اس حرکت پر انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیااور انہیں مشورہ دیا گیا کہ ہر جگہ جانے کے پروٹوکولز ہوتے ہیں جس کی پیروی کی جانی چاہئیے لہٰذا وزیراعلیٰ پنجاب کو چاہئیے کہ پہلے معاملے کی نوعیت کو سمجھا کریں اور اس کے بعد کوئی قدم اْٹھایا کریں۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی اس حرکت پر انہیں صحافیوں، تجزیہ کاروں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹس کی جانب سے بھی خاصی تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…