ہفتہ‬‮ ، 14 مارچ‬‮ 2026 

پولیس ہمارے پیاروں کی لاشیں بھی نہیں دے رہی۔ ہمارے باقی بچوں کو بھی ہمارے حوالے نہیں کیا گیا،ساہیوال واقعہ میں ہلاک ہونیوالے خلیل کے بھائی کی فریاد، افسوسناک انکشافات

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

لاہور (آن لائن) ساہیوال واقعے میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے جاں بحق افراد کی اہل محلہ نے بے گناہی کی گواہی دے دی۔اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ فائرنگ میں جاں بحق افراد کوتمام محلے دار جانتے ہیں ، وہ شریف لوگ تھے، واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور انہیں سخت سزا دی جائے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ساہیوال واقعے میں سی ٹی ڈی کی فائرنگ سے جاں بحق افراد کے حق میں اہل علاقہ بھی باہر نکل آئے ہیں۔

اہل محلہ نے تمام جاں بحق افراد کی بے گناہی کی گواہی دے دی ہے۔اہل محلہ کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق لوگ بے گناہ تھے۔تمام محلے دار جانتے ہیں ، وہ شریف لوگ تھے۔ان کا کہنا ہے کہ فائرنگ کے واقعے میں جاں بحق افراد محلے میں 35سالوں سے رہائش پذیر ہیں۔ ہم ان کو جانتے ہیں یہ شریف لوگ اور بے گناہ ہیں۔ انہوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ فائرنگ کے واقعے میں ملوث ملزمان کو فوری گرفتار کیا جائے اور انہیں سخت سزا دی جائے۔دوسری جانب آئی جی پنجاب پولیس امجد سلیمی نے ساہیوال واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کیلئے جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم تشکیل دے دی ہے۔آئی جی پنجاب پولیس نے جے آئی ٹی کوہدایت کی ہے کہ واقعے کی تمام پہلوؤں سے شفاف تحقیقات عمل میں لائی جائیں۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی جی پنجاب پولیس نے جے آئی ٹی کو تین روز میں تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔بتایا گیا ہے کہ ڈی آئی جی ذولفقار حمید جے آئی ٹی کے سربراہ ہوں گے۔ جبکہ جے آئی ٹی میںآ ئی ایس آئی، ایم آئی، اور آئی بی کے ارکان بھی شامل ہوں گے۔دریں اثناں ساہیوال میں سی ٹی ڈی کے ہاتھوں فائرنگ سے جاں بحق افراد کے ورثاء4 کے گھروں میں قیامت کا منظر ہے۔اہلخانہ نے واقعے کیخلاف احتجاجاً فیروزپور روڈ دونوں اطراف سے بلاک کردی ہے۔ سڑک بلاک ہونے سے میٹروبس سمیت ٹریفک کا نظام مکمل طور پر درہم برہم ہوگیا ہے۔ٹریفک پولیس نے شہریوں کورنگ روڈ استعمال کرنے کی ہدایت کردی۔

واقعے میں ہلاک خلیل کے بھائی نے میڈیا کوبتایا کہ ہمیں دہشتگرد کہا جارہا ہے ، ہم اس علاقے میں گزشتہ 30 سال سے رہائش پذیر ہیں۔ خلیل کی چونگی امرسدھو میں پرچون کی دکان ہے۔ہمارے چار افراد کو ناحق قتل کردیا گیا ہے۔ ذیشان ،خلیل، نبیلہ اور اریبہ کو قتل کیا گیا۔ پولیس ہمارے پیاروں کی لاشیں بھی نہیں دے رہی۔ ہمارے باقی بچوں کو بھی ہمارے حوالے نہیں کیا گیا۔انہوں نے کہا کہ انصاف کی فراہمی تک احتجاج جاری رکھیں گے۔ ورثاء4 نے وزیراعظم ، وزیراعلیٰ سمیت اعلیٰ حکام سے اپیل کی ہے کہ ہمیں انصاف فراہم کیا جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…