پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ جمہوری مارشل لاء ہے، ملک کو چندے سے ہی چلانا ہے تو پھر حکومت بھکاریوں کے حوالے کردی جائے، بڑا مطالبہ کردیاگیا

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

کوئٹہ(آن لائن) جمعیت علماء اسلام کے مرکزی رہنماء و سابق سینیٹر حافظ حمداللہ نے کہا ہے کہ ملک میں جمہوریت نہیں بلکہ جمہوری مارشل لاء ہے اگر ملک کو چندے سے ہی چلانا ہے تو پھر حکومت بھکاریوں کے حوالے کیا جائے ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے مگر حکمران معیشت کو بہتر بنانے کے بجائے دوسرے ممالک میں چندے کا کشکول لئے گھوم رہے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان کی دنیا بھر میں جگ ہنسائی ہو رہی ہے

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پشاور اور صوابی کے دورے کے موقع پر جماعت کے ساتھیوں اور رہنماؤں سے ملاقات کے دوران کیا حافظ حمد اللہ نے کہا کہ 2018کے عام انتخابات میں دھاندلی کے نتیجہ میں آنے والی کٹھ پتلی حکومت ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے بجائے آئے روز دوسرے ممالک سے قرضے اور بھیک مانگتی رہتی ہے ملک چندوں اور بھیک سے نہیں چلتا بلکہ اس کے لئے بہترین معیشت کی پلاننگ کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ موجودہ حکمرانوں کے بس کی بات نہیں انہوں نے کہا کہ ملک کو اگر چندہ سے ہی چلانا ہے تو حکومت بھکاریوں کے حوالے کی جائے کیونکہ موجودہ حکمران اس وقت ملکی معیشت کو بہتر بنانے کے بجائے دوسری سیاسی پارٹیوں کی تضحیک میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ ملک میں اس وقت حقیقی جمہوریت کے نام پر جمہوری مارشل لاء لگا ہوا ہے جمہوریت میں کبھی بھی اس طرح نہیں ہوتاکہ احتساب کے نام پر سیاسی انتقام لیا جا رہا ہو انہوں نے کہا کہ جمعیت علماء اسلام نے روز اول سے کٹھ پتلی حکومت کو ناجائز قرار دیا ہے مولانا فضل الرحمن نے انتخابات کے بعد سب سے پہلے آواز اٹھائی کہ دھاندلی کے نتیجہ میں آنے والی حکومت کو ناکام بنانے کیلئے اپوزیشن جماعتوں کو یکجا ہو نا ہو گا مگر بد قسمتی سے دیگر جماعتیں مصلحت کا شکار ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے دور ہوئے جس کا فائدہ برائے راست حکومتی اراکین کو ہوا جس کا خمیازہ آج ملک کے عوام بھگت رہے ہیں ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…