بدھ‬‮ ، 14 اکتوبر‬‮ 2026 

’’عمران خان کو کرپٹ نہیں سمجھتا‘‘ مولانا فضل الرحمان نے بڑا اعتراف کر لیا، ایسی بات کہہ دی کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 19  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) جمعیت علماء اسلام (ف) کے امیر اور متحدہ مجلس عمل کے رہنما مولانا فضل الرحمان نے ایک نجی ٹی وی چینل کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک میں نظریاتی قوتیں بھی ہیں اور رواجی سیاست کے لوگ بھی موجود ہیں جو جاگیردارانہ سیاست کرتے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہمارے ملکی سیاسی اور اقتدار کے نظام میں اسٹیبلشمنٹ، جاگیردار اور سول بیورو کریسی کی تکون تھی جو ملک پر راج کرتے تھے،

ضیاء دور میں چوتھا عنصر صنعت کار بھی اس سسٹم کا حصہ بن گیا، مولانا فضل الرحمن کا پروگرام کے دوران کہنا تھا کہ عمران خان،آصف علی زرداری اور نواز شریف سمیت کسی کو بھی کرپٹ نہیں سمجھتا لیکن کیا صرف مالیاتی کرپشن ہی کرپشن ہوتی ہے، اسلامی معاشرے میں اخلاقی کرپشن کوئی معیار نہیں ہے، ریاست مدینہ میں اخلاقی جرم کی کوئی حیثیت نہیں ہے، ہم نے صرف مالی کرپشن پر ہی فوکس کر رکھا ہے اور جس طرح ہم کرپشن کو کنٹرول کرنے کا انداز اپنا رہے ہیں اس سے پیسہ جام ہو جاتا ہے،انہوں نے کہا کہ ایک ہے حرام کمائی،ایک ہے خلافِ قانون کمائی اور ایک ہے قانون کے مطابق کمائی،قانون کے مطابق جو کمائی ہے آپ کے ملک میں وہ تو سود کی کمائی کو بھی حلال قرار دے دیتے ہیں جو کہ شرعی طور پر حرام ہے،مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ تمام اپوزیشن پارٹیوں کا اصولی موقف ہے کہ الیکشن میں بدترین دھاندلی ہوئی ہے اور جعلی مینڈیٹ ملک پر حکمران ہے،انہوں نے کہا کہ حکومت کو وقت دینا مینڈیٹ کو تسلیم کرنے کے مترادف ہے،دیکھنا یہ ہے کہ ملکی حالات اس حکومت کو کتنا ٹائم دیتے ہیں، مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ میرے خیال میں تو ایک دن بھی اس جعلی مینڈیٹ کو تسلیم نہیں کرنا چاہیے،معاشی لحاظ سے یہ پاکستان کی تاریخ کا بدترین دور ہے،عمران خان ووٹ لے کر نہیں آیا،وہ بغیر ووٹ کے لایا گیا ہے،وہ شوکت عزیز ہے اور اس کی کوئی حیثیت نہیں ہے،مولانا فضل الرحمان نے کہاکہ میں عمران خان کو پاکستانی سیاست کا حصہ نہیں سمجھتا،وہ باہر کے ایجنڈے پر ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…