پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

ایک مارخور کے شکار کے بدلے 92ہزار ڈالر امریکی سیاح شوق پورا کرنے کیلئے پاکستان کے کس علاقے میں پہنچ گیا اور اسے یہاں کیا کچھ کرنا پڑا؟پڑھئے تفصیلات

datetime 13  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک امریکی سیاح نے چترال میں 92 ہزار ڈالر کے بدلے مارخور کا شکار کرلیا۔ مقامی اخبار  کی رپورٹ کے مطابق مارخور کا شکار کرنے والے امریکی سیاح کی شناخت کرسٹوفر کے نام سے ہوئی ہے۔ نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک اور سیاح تین مرتبہ فائر کرنے کے باوجود مارخور کا شکار نہ کرسکے۔

مارخور کا شکار پاکستان میں غیر قانونی ہے مگر حکومت نے ایک اسکیم کے ذریعے اس کے شکار کو قانونی شکل دی ہے۔ اس اسکیم کو ’ٹرافی ہنٹنگ‘ کہتے ہیں۔اس اسکیم کے تحت سیاح اور شکاری مارخور کا شکار کرنے کے لیے پشاور میں محکمہ وائلڈ لائف کو درخواست جمع کراتے ہیں اور بولی لگاتے ہیں۔ محکمہ وائلڈ لائف سب زیادہ بولی لگانے والے شکاریوں کو ایک مارخور کا شکار کرنے کا پرمٹ جاری کرتا ہے۔اس کے بعد شکاری وہ پرمٹ لے کر چترال چلا جاتا ہے جہاں محکمہ وائلڈ لائف کا مقامی عملہ اس کو لے کر پہاڑوں میں جاتا ہے اور اس کو ایک مخصوص مارخور کی نشاندہی کرتا ہے۔ شکاری اسی مارخور کے علاوہ دوسرا نہیں مار سکتا۔محکمہ وائلد لائف کے حکام کے مطابق مارخور کی زندگی 10 سے 12 سال تک ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ بوڑھا ہوجاتا ہے۔ اس لیے مقامی اہلکار شکاریوں کو ایسے ہی بوڑھے مارخور کی نشاندہی کرتے ہیں۔ٹرافی ہنٹنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم کا 20 فیصد محکمہ وائلڈ لائف کو ملتا ہے جبکہ بقیہ 80 فیصد مقامی آبادی پر خرچ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ مارخور کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ’ٹرافی ہنٹنگ‘ کے بغیر شکار کی اجازت نہیں دیتے اور خود بھی شکار نہیں کرتے۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ کے باعث مارخوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے کیوں کہ پہلے کی طرح دھڑا دھڑ غیر قانونی شکار کے راستے بند ہوگئے ہیں۔

واضح رہے مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے اور ان جنگلی حیات میں شامل ہیں جن کی نسل تیزی سے ختم ہورہی ہے اور ان کا وجود ہی خطرے میں ہے۔ گلگت بلتستان، ضلع چترال، وادی کالاش اور وادئ ہنزہ سمیت دیگر شمالی علاقوں کے ساتھ وادی نیلم کے بالائی علاقوں میں بھی مارخور پایا جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…