بدھ‬‮ ، 14 جنوری‬‮ 2026 

ایک مارخور کے شکار کے بدلے 92ہزار ڈالر امریکی سیاح شوق پورا کرنے کیلئے پاکستان کے کس علاقے میں پہنچ گیا اور اسے یہاں کیا کچھ کرنا پڑا؟پڑھئے تفصیلات

datetime 13  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ایک امریکی سیاح نے چترال میں 92 ہزار ڈالر کے بدلے مارخور کا شکار کرلیا۔ مقامی اخبار  کی رپورٹ کے مطابق مارخور کا شکار کرنے والے امریکی سیاح کی شناخت کرسٹوفر کے نام سے ہوئی ہے۔ نیوزی لینڈ سے تعلق رکھنے والے ایک اور سیاح تین مرتبہ فائر کرنے کے باوجود مارخور کا شکار نہ کرسکے۔

مارخور کا شکار پاکستان میں غیر قانونی ہے مگر حکومت نے ایک اسکیم کے ذریعے اس کے شکار کو قانونی شکل دی ہے۔ اس اسکیم کو ’ٹرافی ہنٹنگ‘ کہتے ہیں۔اس اسکیم کے تحت سیاح اور شکاری مارخور کا شکار کرنے کے لیے پشاور میں محکمہ وائلڈ لائف کو درخواست جمع کراتے ہیں اور بولی لگاتے ہیں۔ محکمہ وائلڈ لائف سب زیادہ بولی لگانے والے شکاریوں کو ایک مارخور کا شکار کرنے کا پرمٹ جاری کرتا ہے۔اس کے بعد شکاری وہ پرمٹ لے کر چترال چلا جاتا ہے جہاں محکمہ وائلڈ لائف کا مقامی عملہ اس کو لے کر پہاڑوں میں جاتا ہے اور اس کو ایک مخصوص مارخور کی نشاندہی کرتا ہے۔ شکاری اسی مارخور کے علاوہ دوسرا نہیں مار سکتا۔محکمہ وائلد لائف کے حکام کے مطابق مارخور کی زندگی 10 سے 12 سال تک ہوتی ہے۔ اس کے بعد وہ بوڑھا ہوجاتا ہے۔ اس لیے مقامی اہلکار شکاریوں کو ایسے ہی بوڑھے مارخور کی نشاندہی کرتے ہیں۔ٹرافی ہنٹنگ کے ذریعے حاصل ہونے والی رقم کا 20 فیصد محکمہ وائلڈ لائف کو ملتا ہے جبکہ بقیہ 80 فیصد مقامی آبادی پر خرچ کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی لوگ مارخور کی حفاظت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے ’ٹرافی ہنٹنگ‘ کے بغیر شکار کی اجازت نہیں دیتے اور خود بھی شکار نہیں کرتے۔حکام کا کہنا ہے کہ ٹرافی ہنٹنگ کے باعث مارخوروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے کیوں کہ پہلے کی طرح دھڑا دھڑ غیر قانونی شکار کے راستے بند ہوگئے ہیں۔

واضح رہے مارخور پاکستان کا قومی جانور ہے اور ان جنگلی حیات میں شامل ہیں جن کی نسل تیزی سے ختم ہورہی ہے اور ان کا وجود ہی خطرے میں ہے۔ گلگت بلتستان، ضلع چترال، وادی کالاش اور وادئ ہنزہ سمیت دیگر شمالی علاقوں کے ساتھ وادی نیلم کے بالائی علاقوں میں بھی مارخور پایا جاتا ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…