پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

آپ یہ الفاظ یہاں ادا نہیں کر سکتے۔۔۔!! کس پورپی ملک میں ’ اللہ اکبر‘ کہنے پربھاری جرمانہ عائد کر دیا گیا

datetime 11  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)یورپی ملک فرانس میں مسلمان خواتین پر برقعے پر پابندی کا تو آپ نے سن ہی رکھا ہو گا جبکہ کبھی میناروں اور کبھی لائوڈ سپیکر پر اذان پر پابندی کی بازگشت آپ نے پڑھی اور سن رکھی ہو گی تاہم اب آپ کو یہ جان کر افسوس ہو گا کہ سوئٹزرلینڈ میں پولیس نے اللہ اکبر کہنے پر 210فرانک جرمانہ عائد کر دیا ہے۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق 22سالہ مسلمان

نوجوان آرحان ای جو کہ سوئٹزر لینڈ کے ہی ایک شہر شف ہاون کا رہنے والا ہےکو ’’اللہ اکبر‘‘کہنے پر 210سوئس فرانک جو کہ پاکستانی 30ہزار روپے بنتے ہیں کا جرمانہ ادا کرنا پڑ گیا ہے۔ یہ واقعہ گزشتہ برس مئی میں پیش آیا جو کہ کچھ ایسے کہ آرحان کی اچانک ملاقات اپنے دوست سے ہوگئی جسے دیکھتے ہی حیرانگی سے انہوں نے نعرہ تکبیر اللہ اکبر بلند کیا،جس پر پولیس نے دہشتگرد انہ حملے کے خوف سے ان پر جرمانہ عائد کردیا۔ یہ واقعہ گزشتہ برس مئی میں پیش آیا۔آرحان کا کہنا تھا کہ وہ اسی شہر میں پیدا ہوا،اسے پہلے کبھی ایسے تجربے کا سامنا نہیں ہوا۔ پولیس نے مسلح ہتھیاروں کے ساتھ ا ن کی تلاشی لی جب انہوں نے اپنے دوست کا سامنا کرنے پر حیرانگی سے ”اللہ اکبر“ کے الفاظ ادا کیے۔انہوں نے کہا کہ اچانک پولیس افسر نے مجھے بلایا اور پوچھا کہ اس اصطلاح یا الفاظ کا مطلب کیاہے جس پر انہوں نے پولیس افسر کو وضاحت سے بتایا کہ اس سے مرادکسی کو نقصان دینا نہیں بلکہ جب کسی سے ملاقات ہوتی ہے تو ا س وقت یہ بولتے ہیں اور تقریباً ہم ہر دوسرے جملے کے ساتھ ان الفاظ کو ادا کرتے ہیں جس پر پولیس حکام نے انہیں دھمکایا کہ اگر انہوں نے جرمانہ ادا نہ کیا تو انہیں جیل بھیج دیں گے، پولیس نے 150 سوئس فرانک کا جرمانہ کیا اور مزید ساٹھ فرانک کے ساتھ210فرانک جمع کرانے کا حکم دیا۔پولیس نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ

ان کے یہ الفاظ لوگوں کو خوفزدہ کرسکتے تھے، پولیس نے ویسا ہی کیا جیسا اس صورت حال میں کیا جاسکتا ہے۔پولیس ترجمان کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر لوگوں میں خوف وہراس پھیل سکتا تھا، یہی وجہ تھی کہ پولیس افسر کواس صورتحال کا معائنہ کرنا پڑا کیونکہ حالیہ سالوں میں دہشت گرد حملوں میں اس اصطلاح کا استعمال کیا گیا۔ایک اورپولیس افسر کا کہنا تھا کہ اظہار کا یہ انداز ایسا تھا جو جرمانے کا سبب بنا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…