پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

’’ڈی پی او پاکپتن ، آئی جی اسلام آباداور پنجاب کے بعد پی ٹی آئی حکومت کی وجہ سے ایک اور افسر کو جانا پڑ گیا‘‘ وزیراعظم عمران خان سمیت کئی مقتدرشخصیات کی کونسی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا ؟ قومی اخبار کی رپورٹ میںسنسنی خیز انکشافات

datetime 11  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آ باد (مانیٹرنگ ڈیسک)چیئرمین سی ڈی اے اور حکومت کے در میان چلنے والے تنازعہ کا بالآخر ڈراپ سین ،کنونشن سنٹر سے ملحقہ گرینڈ حیات ہوٹل کی بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پر منسوخ کی گئی لیز بحال کرنے پر شدید تحفظات، چیئرمین سی ڈی اے طویل رخصت پر چلے گئے، تفصیلات کے مطابق سی ڈی اے کے بعض ایشو اور کنونشن سنٹر سے ملحقہ گرینڈ حیات ہوٹل کی

بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پر منسوخ کی گئی لیز بحال کرنے پر شدید تحفظات رکھنے والے چیئرمین سی ڈی اے اور حکومت کے درمیان تنازعہ کا بالآخر ڈراپ سین ہو گیا ہے اور چیئرمین سی ڈی اےنے 120 دن کی رخصت لے لی ہے۔وفاقی کابینہ نے ان کی جگہ چیف کمشنر اسلام آباد عامر علی کو چیئرمین سی ڈی اے کا اضافی چارج دینے کی منظوری دیدی ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن ایک دو روز میں جاری کر دیا جائے گا۔ قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سی ڈی اے اپنی سخت اور بے لچک طبیعت کی وجہ سے حکومتی وزراء کیلئے ناقابل قبول ہوگئے تھے۔ وفاقی کابینہ نے ان کی جگہ چیف کمشنر اسلام آباد عامر علی کو چیئرمین سی ڈی اے کا اضافی چارج دینے کی منظوری دیدی ہے اور اس حوالے سے باقاعدہ نوٹیفکیشن ایک دو روز میں جاری کر دیا جائے گا۔ قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیئرمین سی ڈی اے اپنی سخت اور بے لچک طبیعت کی وجہ سے حکومتی وزراء کیلئے ناقابل قبول ہوگئے تھے۔ذ رائع کے مطابق چیئرمین سی ڈی اے کےکنونشن سنٹر سے ملحقہ گرینڈ حیات ہوٹل کی لیز بحال کرنے پر شدیدتحفظات تھے کیونکہ یہ لیز بلڈنگ بائی لاز کی خلاف ورزی پر منسوخ کی گئی تھی۔ گرینڈ حیات ٹاور میں وزیر اعظم عمران خان کے علاوہ کئی سیا سی اور مقتدر شخصیات کے اپارٹمنٹس ہیں اور وہ چاہتے ہیں کہ یہ خلاف ورزی ریگولر ہو جائے ۔ پلاٹ کی الاٹمنٹ کی شرائط کے تحت یہاں سروس اپارٹمنس بننے تھے ۔ سروس اپارٹمنٹس فروخت نہیں کئے جاسکتے یہ کمرشل سر گرمی کے زمرے میں آ تا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…