پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

وزارت داخلہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کا سی ڈی اے سے این او سی منسوخ ہونے کے باوجود دو ارب روپے کی فائلیں فروخت، عہدیداروں نے ممبران کو کنگال کردیا

datetime 10  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (آن لائن) وزارت داخلہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کا سی ڈی اے سے این او سی منسوخ ہونے کے باوجود عہدیداروں نے دو ارب روپے کی فائلیں فروخت کرکے ممبران کو کنگال کر دیا۔ ضلعی انتظامیہ اور سی ڈی ا ے کرپٹ عہدیداروں کو روکنے میں بے بس ہو گئے۔ سی ڈی اے اور سرکل رجسٹرار آفس نے کرپشن کی تحریری نشاندہی کرکے خاموشی اختیار کر لی۔ تفصیلات کے مطابق وزارت داخلہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی کا سی ڈی اے نے نومبر2017ء میں

این او سی منسوخ کر دیا تھا اور سرکل رجسٹرار اسلام آباد کے ساتھ ساتھ رجسٹرار کوآپریٹوز اسلام آباد کی طرف سے صرف تحریری طور پر سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری آفتاب شاہ اور فنانس سیکرٹری سردار سبیل ممتاز خان کو خبردار کیا گیا کہ این او سی کی منسوخی کے بعد پلاٹوں کی خرید و فروخت نہ کی جائے لیکن سوسائٹی کے عہدیداروں سیکرٹری آفتاب شاہ فنانس سیکرٹری سردار سبیل ممتاز خان نے سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ میں موجود کالی بھیڑوں کے ساتھ مل کر پہلے سے زیادہ برق رفتاری کے ساتھ پلاٹوں کی فروخت شروع کر دی دلچسپ امریہ ہے کے وزارت داخلہ کے پاس موجود زمین سے زیادہ فائلیں فروخت کر دی گئی ہیں ریکارڈ کے مطابق اب تک3ہزار زائد فائلیں فروخت کر چکی ہیں سی ڈی اے کے ریکارڈ کے مطابق وزارت داخلہ کوآپریٹو ہاؤسنگ سوسائٹی نے ابھی تک اس ہاؤسنگ سکیم کا ڈیزائن بھی جمع نہیں کروایا اس طرح سوسائٹی نے سی ڈی اے کے نام ابھی تک پارکس اور قبرستان کی زمین بھی نام نہیں کروائی۔ بدعنوان ٹولے نے رہائشی اور کمرشل پلاٹوں کی زمین بھی سی ڈی اے نام پر مارٹ گیج نہیں کروائی۔ مزید براں سوسائٹی کے عہدیداروں نے فرد، شجرہ عکس بھی سی ڈی اے کے پاس جمع نہیں کروایا جس کے بعد7نومبر2017ء کو اس سوسائٹی کا این او سی منسوخ کر دیا لیکن سوسائٹی عہدیداروں نے دیدہ دلیری سے

نہ صرف کرپشن میں تیزی کی بلکہ سی ڈی سی اے اور سرکل رجسٹرار کے اختیارات کو تسلیم ہی نہیں کیا البتہ مصدقہ ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ سوسائٹی کے جنرل سیکرٹری آفتاب شاہ اور فنانس سیکریٹری سردار سبیل ممتاز خان نے سی ڈی اے اور رجسٹرار کوآپریٹو آفس میں موجود کالی بھیڑوں کو ساتھ ملا کر ممبران کو کنگال کر دیا جمع پونجی لٹا بیٹھنے والے متاثرین نے وزیر داخلہ شہریار آفریدی سے اپیل کی ہے کہ لوٹ مار کرنیوالے عہدیداروں کیخلاف تمام شواہد نیب کو دے

کر کارروائی کا آغاز کیا جائے۔ اس حوالے سے جب سی ڈی اے کے ڈائریکٹر ہاؤسنگ سوسائٹیز اعجاز شیخ سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ این او سی منسوخی کے بعد سوسائٹی کے عہدیداروں نے پلاٹوں کی فروخت کا جتنا بھی کاروبار کیا ہے وہ غیر قانونی ہے اور ابھی تو یہ بھی چیک کرنے کی ضرورت ہے کہ کمرشل پلاٹ قانون کے مطابق فروخت کئے گئے یا اپنے ہی بندوں میں بانٹ دیئے گئے اس کے علاوہ پارکس، سکولوں اور قبرستان کے پلاٹ بھی چیک کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ بچے ہوئے ہیں یا عہدیداروں نے بیچ کھائے ہیں البتہ یہ کام ضلعی انتظامیہ کا ہے اس حوالے سے سرکل رجسٹرار اصغر نیازی نے رابطہ کرنے پر کہا کہ لے آؤٹ اور این او سی سی ڈی اے سے متعلقہ ہیں لیکن اس سوسائٹی میں جو کچھ ہوا ہے وہ میرے عہدہ سنبھالنے سے پہلے ہوا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…