جمعہ‬‮ ، 04 اپریل‬‮ 2025 

مسئلہ کشمیرنظر انداز،اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سازش، مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر سنگین الزام عائد کردیا

datetime 5  جنوری‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ آج پارلیمنٹ میں پاک انڈیا تعلقات پر اور کشمیر پر کوئی بات نہیں ہو رہی ٗ مجھے نہیں یاد کوئی قائد ایوان منتخب ہو اور کشمیر پاک بھارت تعلقات کازکر نہ کرے ٗ سیکولر لبرل پاکستان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ٗ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تاویلیں دی جارہی ہیں ٗ آج پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو شدید خطرات ہیں ٗ ٗ

ہمیں خارجہ پالیسی،نظریاتی شناخت،پالیسیوں،کشمیر پر حساس ہونا چاہیے۔ ہفتہ کو کشمیر ی عبدالباسط تعزیتی ریفرنس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عبدالباسط کی پوری زندگی کشمیر کی جدوجہد کرتے ہوئے گزری۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آج ضرورت ہے کہ کشمیریوں کے مستقبل کے بارے کیں فکر مند رہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پوری دنیا میں کشمیر پر ایجنڈا تبدیل ہو رہا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پاکستان کو دنیا کے سامنے لیبرل سٹیٹ کے طور پر متعارف کروایا جا رہا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آج پارلیمنٹ میں پاک انڈیا تعلقات پر اور کشمیر پر کوئی بات نہیں ہو رہی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ کشمیر میں مظالم کی طویل داستان ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ کشمیریوں کی جدوجہد اور مستقبل کیلئے فکرمند ہونے کی ضرورت ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد اسلامی دنیا نشانہ پر ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پاکستان کی نظریاتی شناخت کو ختم کیا جارہا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ سیکولر لبرل پاکستان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مجھے نہیں یاد کوئی قائد ایوان منتخب ہو اور کشمیر پاک بھارت تعلقات کازکر نہ کرے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نقطہ ہوتا تھا۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ موجودہ پارلیمانی قائد کی پہلی تقریر سے کشمیر غائب تھا۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ترجیحات تبدیل ہورہی ہیں نئے نئے مسائل آرہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تاویلیں دی جارہی ہیں ٗفلسطین پر اسرائیلی قبضہ کو تسلیم کرلیا تو کشمیر پر بھارتی قبضہ کے موقف کا کیا بنے گا؟۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ حکومتی ترجیحات تبدیل ہورہی ہیں ٗہمیں خارجہ پالیسی،نظریاتی شناخت،پالیسیوں،کشمیر پر حساس ہونا چاہیے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے والوں کو مصر میں حکومت سے ہٹا دیا گیا۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ایسے فیصلے آمرانہ انداز میں کئے جاتے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ حریت کانفرنس کے اکابرین سے ملاقات ہوئی ٗکشمیر پر آل پارٹیز کانفرنس بلا رہے ہیں ٗدو فروری کو کشمیر معاملہ پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ کشمیر پر بات کرنے کیلئے پالیمنٹرین ہونا ضروری نہیں،کشمیر سے کمٹمنٹ ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آج پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو شدید خطرات ہیں ۔انہوں نے کہاکہ عرب ممالک میں بادشاہت ہے اور آمریت نے اسرائیل کو تسلیم کیا ٗآج ترکوں سے پوچھیں وہ تسلیم نہیں کرتے ، پہلے آمروں نے تسلیم کیا تھا ۔انہوں نے کہاکہ مصر میں بھی آمریت نے تسلیم کیا، عوام نے اسرائیل کو مسترد کیا۔

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…