پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

مسئلہ کشمیرنظر انداز،اسرائیل کو تسلیم کرنے کی سازش، مولانا فضل الرحمان نے حکومت پر سنگین الزام عائد کردیا

datetime 5  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (این این آئی) جمعیت علمائے اسلام (ف)کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ آج پارلیمنٹ میں پاک انڈیا تعلقات پر اور کشمیر پر کوئی بات نہیں ہو رہی ٗ مجھے نہیں یاد کوئی قائد ایوان منتخب ہو اور کشمیر پاک بھارت تعلقات کازکر نہ کرے ٗ سیکولر لبرل پاکستان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے ٗ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تاویلیں دی جارہی ہیں ٗ آج پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو شدید خطرات ہیں ٗ ٗ

ہمیں خارجہ پالیسی،نظریاتی شناخت،پالیسیوں،کشمیر پر حساس ہونا چاہیے۔ ہفتہ کو کشمیر ی عبدالباسط تعزیتی ریفرنس کانفرنس میں مولانا فضل الرحمن نے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ عبدالباسط کی پوری زندگی کشمیر کی جدوجہد کرتے ہوئے گزری۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آج ضرورت ہے کہ کشمیریوں کے مستقبل کے بارے کیں فکر مند رہیں۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ پوری دنیا میں کشمیر پر ایجنڈا تبدیل ہو رہا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پاکستان کو دنیا کے سامنے لیبرل سٹیٹ کے طور پر متعارف کروایا جا رہا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آج پارلیمنٹ میں پاک انڈیا تعلقات پر اور کشمیر پر کوئی بات نہیں ہو رہی۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ کشمیر میں مظالم کی طویل داستان ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ کشمیریوں کی جدوجہد اور مستقبل کیلئے فکرمند ہونے کی ضرورت ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد اسلامی دنیا نشانہ پر ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ پاکستان کی نظریاتی شناخت کو ختم کیا جارہا ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ سیکولر لبرل پاکستان بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ مجھے نہیں یاد کوئی قائد ایوان منتخب ہو اور کشمیر پاک بھارت تعلقات کازکر نہ کرے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ کشمیر پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی نقطہ ہوتا تھا۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ موجودہ پارلیمانی قائد کی پہلی تقریر سے کشمیر غائب تھا۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ترجیحات تبدیل ہورہی ہیں نئے نئے مسائل آرہے ہیں۔

مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اسرائیل کو تسلیم کرنے کی تاویلیں دی جارہی ہیں ٗفلسطین پر اسرائیلی قبضہ کو تسلیم کرلیا تو کشمیر پر بھارتی قبضہ کے موقف کا کیا بنے گا؟۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ حکومتی ترجیحات تبدیل ہورہی ہیں ٗہمیں خارجہ پالیسی،نظریاتی شناخت،پالیسیوں،کشمیر پر حساس ہونا چاہیے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ اسرائیل کو تسلیم نہ کرنے والوں کو مصر میں حکومت سے ہٹا دیا گیا۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ ایسے فیصلے آمرانہ انداز میں کئے جاتے ہیں ۔

انہوں نے کہاکہ حریت کانفرنس کے اکابرین سے ملاقات ہوئی ٗکشمیر پر آل پارٹیز کانفرنس بلا رہے ہیں ٗدو فروری کو کشمیر معاملہ پر آل پارٹیز کانفرنس بلائی ہے ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ کشمیر پر بات کرنے کیلئے پالیمنٹرین ہونا ضروری نہیں،کشمیر سے کمٹمنٹ ہے۔مولانا فضل الرحمن نے کہاکہ آج پاکستان کی نظریاتی سرحدوں کو شدید خطرات ہیں ۔انہوں نے کہاکہ عرب ممالک میں بادشاہت ہے اور آمریت نے اسرائیل کو تسلیم کیا ٗآج ترکوں سے پوچھیں وہ تسلیم نہیں کرتے ، پہلے آمروں نے تسلیم کیا تھا ۔انہوں نے کہاکہ مصر میں بھی آمریت نے تسلیم کیا، عوام نے اسرائیل کو مسترد کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…