اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

تبدیلی ہوا میں اُڑ گئی، شیلٹر ہوم کے نام پہ غریبوں کو چونا لگا دیا گیا، فوٹو شوٹ اور میڈیا ریکارڈنگ کے بعد عوام کے ساتھ ایسا سلوک کر دیا گیا کہ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ ہوگا

datetime 4  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) وزیراعظم عمران خان کے حکم پر عمل کرتے ہوئے صوبائی حکومتوں نے کئی شہروں میں عارضی شیلٹر ہومز قائم کیے ہیں، سردیوں کے موسم میں بے گھر افراد کو شیلٹر مہیا کرنا بہترین تبدیلی ہے، نئے سال کے پہلے دن جناح ہسپتال میں صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد کو انتظامیہ نے بے وقوف بنا دیا،

صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد جیسے ہی ہسپتال کا دورہ کرکے واپس گئیں وہاں کی انتظامیہ نے شیلٹر ہوم کو بھی لپیٹنا شروع کر دیا، تیمار داروں کو استعمال کے لیے جو سامان دیا گیا تھا وہ بھی اٹھا لیا گیا، اس واقعہ کے دو روز بعد ہی اسی طرح کے مناظر دوبارہ دیکھنے کو آئے، راولپنڈی کے ہولی فیملی ہسپتال میں ادھورے شیلٹر ہوم کا افتتاح پوری ڈھٹائی سے کیا گیا، جب میڈیا نے معاملہ اٹھایا تو وزیر صحت کو صفائیاں دینا پڑ گئیں، ہولی فیملی ہسپتال میں ریت، سیمنٹ اور تعمیراتی سامان بکھرا پڑا ہے، ہسپتال میں مریضوں کے لواحقین کے لیے شیلٹر ہوم بن رہا ہے، فرش کی رگڑائی کے لیے مشینیں بھی موجود اور چار دیواری کی جگہ جالی لگائی گئی، اس ادھورے منصوبے کے افتتاح کا صوبائی وزیر صحت یاسمین راشد نے فیتہ کاٹ کر کیا، جب یاسمین راشد سے سوال کیا گیا کہ یہ آپ نے کیا کیا تو انہوں نے کہا کہ میں نے ان سے یہی بات کی کہ آپ ابھی افتتاح کرا رہے ہیں تو جب یہ مکمل ہو گا تو کیا دوبارہ افتتاح کروائیں گے، یہ والا شیلٹر یہ نیا بنا رہے ہیں ابھی مکمل نہیں ہوا لیکن انشاء اللہ نیت مکمل کرنے کی ہے اس لیے افتتاح کر دیا، سخت سردی میں عوام نے عارضی چار دیواری کے اندر ٹھنڈے اور گندے فرش پر ہی ڈیرے جما لیے، مریضوں کے لواحقین نے بزدار حکومت کو ساتھ ہی کوسنا بھی شروع کر دیا کہ شیلٹر ہوم مکمل ہوتا تو افتتاح کرنا چاہیے تھا نامکمل افتتاح کرکے چلے جانا یہ بھی ایک زیادتی ہے۔ فیتہ کاٹتے ہی افتتاحی تختی ہٹا دی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…