منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزارق داؤد کی کمپنی کودینا حکومت کو بھاری پڑ گیا،دھماکہ خیز قدم اُٹھالیاگیا

datetime 4  جنوری‬‮  2019 |

لاہور (نیوزڈیسک) مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ عبدالرزارق داؤد کی کمپنی کو دینے کے اقدام کیخلاف ،اضافی گندم کو محفوظ بنانے کیلئے جامع حکمت عملی بنانے کے مطالبے پر مبنی سمیت 4قرار دادیں پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دی گئیں ۔مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ کی طرف سے جمع کروائی گئی قرار داد کے متن میں کہا گیاہے کہ حکومت نے مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد کی کمپنی کو دیکر میرٹ کی دھجیاں اڑادی ہیں۔

حکومتی مشیر کو ڈیم کی تعمیر کیلئے309ارب کاٹھیکہ ملنا تشویشناک ہے۔مخصوص کمپنی کو ٹھیکہ نوازنے کیلئے دوسری کمپنیوں کی پیشکش کو مستردکیا گیا۔ دوسری کمپنیوں کی ڈس کوالیفیکیشن کے بعد دوبارہ بولی ضروری نہیں تھی ؟صرف ایک بولی کے بعد ہی مخصوص کمپنی کو ٹھیکہ دینا قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔لیہ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ مہمد ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ کینسل کیا جائے ۔وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد کو اس کی وضاحت دینی چاہیے۔قرار داد میں مطالبہ کیا گیا کہ مہمند ڈیم کی تعمیر سے قبل دیمار بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کی جائیں ۔کیونکہ پاکستانی قوم نے ڈیمز فنڈز میں چند صرف دیا میر بھاشا ڈیم کیلئے دیاہے ۔یہ چندہ مہمند ڈیم کیلئے نہیں دیا گیا۔تحریک انصاف کی رکن اسمبلی سعدیہ سہیل رانا نے اضافی گندم کو محفوظ بنانے کے لئے جامع حکمت عملی بنانے کے مطالبے کی قرار جمع کروائی جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ سابق حکمرانوں کی عدم توجہی کی وجہ سے پیداوار کو محفوظ اور برآمد کا جامع اور شفاف نظام تشکیل نہ دینے کی وجہ سے اربوں روپے کی گندم خراب ہونے کا خدشہ ہے۔وفاقی حکومت عالمی منڈی میں گندم کی قیمتوں میں اضافہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے گندم کو برآمد کرنے کے لئے جامع منصوبہ بندی بنائے تاکہ اضافی گندم کے بحران سے نجات حاصل کی جا سکے۔تحریک انصاف کی رکنی اسمبلی سیمابیہ طاہر نے صحافیوں کے مسائل حل کرنے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت صحافت کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہے،

بے روزگار ہو جانے والے سینکڑوں بلکہ ہزاروں کارکنان کو مالی مشکلات سے نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ صحافیوں کی ڈان سائزنگ و تنخواہوں میں کمی کو رکوانے، صحافی کالونیوں کے مسائل حل کرے۔ شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کے لئے ہیلتھ کارڈ جاری کرنے کے لئے حکومت اپنا کردار ادا کرے۔جبکہ تحریک انصاف کی رکن اسمبلی سیمبایہ طاہر نے سید ذوالفقار حسین کی خدمات کے اعتراف میں انہیں گڈ ول ایمبیسیڈر آن ڈرگ تعینات کرنے کے مطالبے کی قرارداد بھی پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی ہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…