پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزارق داؤد کی کمپنی کودینا حکومت کو بھاری پڑ گیا،دھماکہ خیز قدم اُٹھالیاگیا

datetime 4  جنوری‬‮  2019 |

لاہور (نیوزڈیسک) مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ عبدالرزارق داؤد کی کمپنی کو دینے کے اقدام کیخلاف ،اضافی گندم کو محفوظ بنانے کیلئے جامع حکمت عملی بنانے کے مطالبے پر مبنی سمیت 4قرار دادیں پنجاب اسمبلی سیکرٹریٹ میں جمع کروا دی گئیں ۔مسلم لیگ (ن) کی رکن پنجاب اسمبلی حنا پرویز بٹ کی طرف سے جمع کروائی گئی قرار داد کے متن میں کہا گیاہے کہ حکومت نے مہمند ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد کی کمپنی کو دیکر میرٹ کی دھجیاں اڑادی ہیں۔

حکومتی مشیر کو ڈیم کی تعمیر کیلئے309ارب کاٹھیکہ ملنا تشویشناک ہے۔مخصوص کمپنی کو ٹھیکہ نوازنے کیلئے دوسری کمپنیوں کی پیشکش کو مستردکیا گیا۔ دوسری کمپنیوں کی ڈس کوالیفیکیشن کے بعد دوبارہ بولی ضروری نہیں تھی ؟صرف ایک بولی کے بعد ہی مخصوص کمپنی کو ٹھیکہ دینا قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔لیہ ایوان حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ مہمد ڈیم کی تعمیر کا ٹھیکہ کینسل کیا جائے ۔وزیر اعظم کے مشیر عبدالرزاق داؤد کو اس کی وضاحت دینی چاہیے۔قرار داد میں مطالبہ کیا گیا کہ مہمند ڈیم کی تعمیر سے قبل دیمار بھاشا ڈیم کی تعمیر شروع کی جائیں ۔کیونکہ پاکستانی قوم نے ڈیمز فنڈز میں چند صرف دیا میر بھاشا ڈیم کیلئے دیاہے ۔یہ چندہ مہمند ڈیم کیلئے نہیں دیا گیا۔تحریک انصاف کی رکن اسمبلی سعدیہ سہیل رانا نے اضافی گندم کو محفوظ بنانے کے لئے جامع حکمت عملی بنانے کے مطالبے کی قرار جمع کروائی جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ سابق حکمرانوں کی عدم توجہی کی وجہ سے پیداوار کو محفوظ اور برآمد کا جامع اور شفاف نظام تشکیل نہ دینے کی وجہ سے اربوں روپے کی گندم خراب ہونے کا خدشہ ہے۔وفاقی حکومت عالمی منڈی میں گندم کی قیمتوں میں اضافہ سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے گندم کو برآمد کرنے کے لئے جامع منصوبہ بندی بنائے تاکہ اضافی گندم کے بحران سے نجات حاصل کی جا سکے۔تحریک انصاف کی رکنی اسمبلی سیمابیہ طاہر نے صحافیوں کے مسائل حل کرنے کے مطالبے کی قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی جس کے متن میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں اس وقت صحافت کا شعبہ شدید بحران کا شکار ہے،

بے روزگار ہو جانے والے سینکڑوں بلکہ ہزاروں کارکنان کو مالی مشکلات سے نکالنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ صحافیوں کی ڈان سائزنگ و تنخواہوں میں کمی کو رکوانے، صحافی کالونیوں کے مسائل حل کرے۔ شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے والے ہر فرد کے لئے ہیلتھ کارڈ جاری کرنے کے لئے حکومت اپنا کردار ادا کرے۔جبکہ تحریک انصاف کی رکن اسمبلی سیمبایہ طاہر نے سید ذوالفقار حسین کی خدمات کے اعتراف میں انہیں گڈ ول ایمبیسیڈر آن ڈرگ تعینات کرنے کے مطالبے کی قرارداد بھی پنجاب اسمبلی میں جمع کروائی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…