منگل‬‮ ، 13 اکتوبر‬‮ 2026 

مہمند ڈیم کی بولی میں رزاق داؤد کی کمپنی کو نوازنے کے دعوے ، چیئرمین واپڈامزمل حسین بھی بالاخر بول پڑے،حیرت انگیز انکشافات

datetime 3  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(نیوزڈیسک ) چیئرمین واپڈا مزمل حسین نے کہا ہے کہ مہمند ڈیم کی بولی میں رزاق داؤد کی کمپنی کو نوازنے کے دعوے میں صداقت نہیں ، ٹھیکے میں شفافیت کے معاملے پر اپوزیشن جماعتیں پوائنٹ سکورنگ کررہی ہیں ۔ مہمند ڈیم پاکستان کیلئے ضروری ہے، بہت پہلے بن جانا چاہیے تھا۔ تاخیر سے صرف عوام کا نقصان ہوا۔ پانچ سالہ منصوبے کی بروقت فنڈنگ ہوئی تو وقت سے پہلے مکمل کرلیں گے۔

جمعرات کے روز نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین واپڈا جنرل (ر) مزمل حسین نے کہا کہ مہمند ڈیم پاکستان کے لئے بہت ضروری ہے جسے کافی پہلے مکمل ہونا چاہیے تھا۔ مہمندڈیم کی تاخیر سے عوام کا نقصان ہوا ۔ انہوں نے کہا کہ مہمندڈیم کی تاخیر سے عوام کا نقصان ہوا، مہمند ڈیم پانچ سالہ منصوبہ ہے لیکن اگر بروقت اور بلا تعطل فنڈز کی فراہمی جاری رہی تو پانچ سال سے پہلے ہی مکمل کرلیں گے ۔ چےئرمین واپڈا نے کہا کہ اس منصوبے پر چالیس سال قبل کام شروع ہوا تھا لیکن سابقہ حکومتوں کی عدم دلچسپی اور عالمی طاقتوں کی مداخلت کے باعث خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوسکی۔ انہوں نے مہمند ڈیم کی بولی اور ٹھیکے کے معاملے پر مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد کی کمپنی کو نوازنے کے دعوے کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا کہ نومبر 2017میں اوپن بولی کے ذریعے 23کمپنیوں نے ٹینڈر کے کاغذات حاصل کیے جن میں سے پانچ کمپنیوں کے شارٹ لسٹنگ کا عمل مکمل ہوا ۔ عالمی ماہرین کی کمپنی نے چھ ماہ میں جانچ پڑتال کرکے پیپرا رولز ، پاکستان انجینئرنگ کونسل اور ورلڈ بینک کی رہنمائی میں ٹھیکہ دیا ہے۔ چےئرمین واپڈا نے کہا کہ مہمند سے پشور میں پانی کی قلت پوری ہوگی ۔ اس سے 12لاکھ ملین ایکڑ فٹ ہونے کے ساتھ 800میگاواٹ بجلی کی پیداوار اور 18ہزار ایکڑزمین سیراب ہوگی جبکہ چارسدہ مردان وادی مین سیلاب کا خدشہ ہمیشہ کیلئے ٹل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ دیامیر بھاشا ڈیم او رمہمند ڈیم کی تعمیر مکمل ہونے سے پاکستان بجلی کی پیداوارمیں خود کفیل ہو جائے گا۔

چےئرمین واپڈا نے کہا کہ ہمارا محکمہ سیاسی دباؤ میں نہیں آتا۔ تمام تر سیاسی دباؤ کے باوجود 24ماہ کی ریکارڈ مت میں نیلم جہلم پراجیکٹ کو مکمل کیا جس سے 969میگاواٹ بجلی حاصل ہورہی ہے اسی طرح تربیلا فو رکا منصوبہ مکمل کرنے کے ساتھ ساتھ کچھی کینال میں 353کلومیٹر لمبی کینال لے جا کر ڈیرہ بگٹی کو پانی فراہم کیا گیا۔ چےئرمین واپڈا مزمل حسین نے سیاسی دباؤ کو پس پشت ڈال کر کام جاری رکھنے کے عزم کا بھی اظہار کیا اور کہا کہ پاکستان کو ہر سال دس سال کے عرصے مین ایک ڈیم بنا کردیں گے ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(آخری حصہ)


  نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(گیارہواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دسواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(نواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(آٹھواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…