اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

لاہور ہائی کورٹ کے جج فرخ عرفان سے بیرون ملک اثاثوں کی منی ٹریل طلب،کمپنیاں بنائیں اور آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک جائیداد خریدی ،حیرت انگیزانکشافات

datetime 3  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(آن لائن)چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں سپریم جوڈیشل کونسل نے لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس فرخ عرفان کے خلاف بیرون ملک اثاثوں سے متعلق ریفرنس پر کھلی عدالت میں سماعت کی۔چیف جسٹس کی سربراہی میں پانچ رکنی جوڈیشل کونسل نے ریفرنس پر سماعت کی جس میں ریجنل ٹیکس افسرسرمد قریشی بھی موجود تھے۔ریجنل ٹیکس آفیسرسرمد قریشی جوڈیشل کونسل میں پیش ہوئے

اور جسٹس فرخ عرفان کے ٹیکس گوشوارے ظاہر کیے۔جسٹس فرخ عرفان کے وکیل حامد خان کا کہنا تھا کہ ’عدالت نے جسٹس فرخ عرفان کے 2011،2012 اور 2010 کے ٹیکس ریٹرن طلب کیے تھے‘۔جس پر وکیل استغاثہ نے موقف اختیار کیا کہ ’جسٹس فرخ عرفان کے 2010 سے آگے کے ٹیکس ریٹرن ریکارڈ پر موجود ہیں‘۔وکیل استغاثہ نے کہا کہ ’ڈاکٹر سرمد قریشی 2001 اور 2002 کے ٹیکس ریٹرنز لائے ہیں، جسٹس فرخ عرفان نے 2003 سے 2006 تک گوشوارے داخل نہیں کیے‘۔ان کا کہنا تھا کہ ’ڈاکٹر سرمد جسٹس فرخ کے ویلتھ ٹیکس کے ریکارڈ بھی لائے ہیں اور انہیں آف شور کمپنی پر نوٹس بھی ریجنل ٹیکس آفیسر نے جاری کیا۔اس حوالے سے وکیل استغاثہ نے کہا کہ ’نوٹس آف شور کمپنی گوشواروں میں ظاہر نہ کرنے پر جاری کیا گیا‘۔دوران سماعت نمائندہ ایس ای سی پی نے جسٹس فرخ عرفان کی پانچ کمپنیوں کا ریکارڈ بھی پیش کیا۔چیئرمین جوڈیشل کونسل جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے کہ ’یہ تسلیم شدہ ہے کہ جسٹس فرخ نے کمپنیاں بنائیں اور آف شور کمپنیوں کے ذریعے بیرون ملک جائیداد خریدی گئی‘۔جسٹس ثاقب نثار نے استفسار کیا کہ ’بیرون ملک جائیداد خریدنے کے لیے پیسہ کہاں سے آیا، کیا پیسہ بیرون ملک کمایا یا پاکستان سے گیا؟‘اس ضمن میں چیئرمین جوڈیشل کونسل نے واضح کیا کہ ’منی ٹریل کی وضاحت جسٹس فرخ عرفان خود دیں گے، انہیں بیرون ملک جائیداد خریدنے کا جواب تو دینا ہوگا‘۔بعد ازاں جوڈیشل کونسل نے جسٹس فرخ عرفان کے وکیل کو ریکارڈ پیش کرنے کے لیے 8 جنوری تک کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…