منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

تحریک انصاف کے اہم رکن اسمبلی نے پورے پانچ سال کی تنخواہ چیف جسٹس ووزیراعظم ڈیمز فنڈز میں دینے کا اعلان کردیا

datetime 3  جنوری‬‮  2019 |

ملتان(آئی این پی) تحریک انصاف کے ایم پی اے ظہیرالدین علیزئی نے وزیراعظم و چیف جسٹس کی ڈیم فنڈ ریزنگ مہم میں اپنی بطور ممبر اسمبلی پورے پانچ سال کی تنخواہ دینے کا اعلان کردیا،نئے ڈیموں کی تعمیروقت کی ضرورت ہے،ڈیموں کی تعمیر میں تاخیرسے پاکستان کے بنجر ہونے کا خطرہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان پریس کلب میں پارٹی رہنماؤں اورکارکنوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ظہیرالدین علیزئی کا کہنا تھا کہ ڈیمز کی تعمیر میں ملک و قوم کا مستقبل وابستہ ہے مگر دیگر اہم قومی امور کی مانند ماضی میں اقتدار کی باریاں لگا کر ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والے حکمرانوں نے ملک کے مستقبل کے اہم سنگ میل ڈیمز کے حوالے سے بھی مجرمانہ غفلت اور سرد مہری کا مظاہرہ کیا۔ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ آبی ماہرین نے جس اندیشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر ملک میں ڈیم نہ بنے تو 2025ء تک پاکستان کو شدید قحط سالی کا سامنا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم و چیف جسٹس پاکستان کی ڈیم فنڈ ریزنگ مہم میں اپنی اسمبلی کی پانچ سالہ پوری تنخواہ وقف کرتے ہوئے ڈیم فنڈ میں دینے کا اعلان کرتے ہیں اور ڈیم کی تعمیر کیلئے ہرممکن تعاون کریں گے۔ایم پی اے ظہیر الدین خان علیزئی نے مزید کہا کہ مملکت خداداد پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے، 70 فیصد زرعی رقبہ کے حامل پاکستان کو پچھلے کئی برسوں سے بھارت کی طرف سے پاکستان آنے والے متعدد دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر سے آبی جارحیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بد قسمتی سے ماضی کی حکومتیں اس اہم ایشو پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتی آئی ہیں اور اسی غفلت و ناقص پیروی کے باعث پاکستان 2016ء میں اقوام متحدہ میں اپنا کیس ہار کر دریائے چناب پر بھارت کی بالادستی قبول کرنے پر مجبور ہوگیا، دریائے چناب پر بھارت کی حدود میں ڈیموں کی

تعمیر اور پانی بھارت میں ذخیرہ ہونے کے باعث دریائے چناب کا حشر بھی اس وقت دریائے بیاس، راوی اور ستلج جیسا ہوچکا ہے، اسی طرح دریائے جہلم جو بھارتی حدود کشن گنگا کہلاتا ہے اس پر بھی بارت نے کشن گنگا ڈیم بنا کر فعال کردیا ہے جس کے باعث اس دریائے جہلم کا پانی بھی آدھے سے کم رہ گیا ہے جس کے نتیجہ میں پاکستان کا نیلم جہلم ڈیم منصوبہ بھی شدید متاثر ہوگا۔ اس گھمبیر صورتحال سے نکلنے کے لئے پاکستان میں ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہوچکی ہے بلکہ متعدد ڈیموں کی منصوبہ بندی ہونی چاہیے ۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…