جمعہ‬‮ ، 29 اگست‬‮ 2025 

تحریک انصاف کے اہم رکن اسمبلی نے پورے پانچ سال کی تنخواہ چیف جسٹس ووزیراعظم ڈیمز فنڈز میں دینے کا اعلان کردیا

datetime 3  جنوری‬‮  2019
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

ملتان(آئی این پی) تحریک انصاف کے ایم پی اے ظہیرالدین علیزئی نے وزیراعظم و چیف جسٹس کی ڈیم فنڈ ریزنگ مہم میں اپنی بطور ممبر اسمبلی پورے پانچ سال کی تنخواہ دینے کا اعلان کردیا،نئے ڈیموں کی تعمیروقت کی ضرورت ہے،ڈیموں کی تعمیر میں تاخیرسے پاکستان کے بنجر ہونے کا خطرہ ہے۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے ملتان پریس کلب میں پارٹی رہنماؤں اورکارکنوں کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

ظہیرالدین علیزئی کا کہنا تھا کہ ڈیمز کی تعمیر میں ملک و قوم کا مستقبل وابستہ ہے مگر دیگر اہم قومی امور کی مانند ماضی میں اقتدار کی باریاں لگا کر ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچانے والے حکمرانوں نے ملک کے مستقبل کے اہم سنگ میل ڈیمز کے حوالے سے بھی مجرمانہ غفلت اور سرد مہری کا مظاہرہ کیا۔ اس حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا کہ آبی ماہرین نے جس اندیشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر ملک میں ڈیم نہ بنے تو 2025ء تک پاکستان کو شدید قحط سالی کا سامنا کرنا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ وہ وزیراعظم و چیف جسٹس پاکستان کی ڈیم فنڈ ریزنگ مہم میں اپنی اسمبلی کی پانچ سالہ پوری تنخواہ وقف کرتے ہوئے ڈیم فنڈ میں دینے کا اعلان کرتے ہیں اور ڈیم کی تعمیر کیلئے ہرممکن تعاون کریں گے۔ایم پی اے ظہیر الدین خان علیزئی نے مزید کہا کہ مملکت خداداد پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے، 70 فیصد زرعی رقبہ کے حامل پاکستان کو پچھلے کئی برسوں سے بھارت کی طرف سے پاکستان آنے والے متعدد دریاؤں پر ڈیموں کی تعمیر سے آبی جارحیت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، بد قسمتی سے ماضی کی حکومتیں اس اہم ایشو پر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کرتی آئی ہیں اور اسی غفلت و ناقص پیروی کے باعث پاکستان 2016ء میں اقوام متحدہ میں اپنا کیس ہار کر دریائے چناب پر بھارت کی بالادستی قبول کرنے پر مجبور ہوگیا، دریائے چناب پر بھارت کی حدود میں ڈیموں کی

تعمیر اور پانی بھارت میں ذخیرہ ہونے کے باعث دریائے چناب کا حشر بھی اس وقت دریائے بیاس، راوی اور ستلج جیسا ہوچکا ہے، اسی طرح دریائے جہلم جو بھارتی حدود کشن گنگا کہلاتا ہے اس پر بھی بارت نے کشن گنگا ڈیم بنا کر فعال کردیا ہے جس کے باعث اس دریائے جہلم کا پانی بھی آدھے سے کم رہ گیا ہے جس کے نتیجہ میں پاکستان کا نیلم جہلم ڈیم منصوبہ بھی شدید متاثر ہوگا۔ اس گھمبیر صورتحال سے نکلنے کے لئے پاکستان میں ڈیم کی تعمیر ناگزیر ہوچکی ہے بلکہ متعدد ڈیموں کی منصوبہ بندی ہونی چاہیے ۔

موضوعات:



کالم



سنت یہ بھی ہے


ربیع الاول کا مہینہ شروع ہو چکا ہے‘ اس مہینے…

سپنچ پارکس

کوپن ہیگن میں بارش شروع ہوئی اور پھر اس نے رکنے…

ریکوڈک

’’تمہارا حلق سونے کی کان ہے لیکن تم سڑک پر بھیک…

خوشی کا پہلا میوزیم

ڈاکٹر گونتھروان ہیگنز (Gunther Von Hagens) نیدر لینڈ سے…

اور پھر سب کھڑے ہو گئے

خاتون ایوارڈ لے کر پلٹی تو ہال میں موجود دو خواتین…

وین لو۔۔ژی تھرون

وین لو نیدر لینڈ کا چھوٹا سا خاموش قصبہ ہے‘ جرمنی…

شیلا کے ساتھ دو گھنٹے

شیلا سوئٹزر لینڈ میں جرمنی کے بارڈرپر میس پراچ(Maisprach)میں…

بابا جی سرکار کا بیٹا

حافظ صاحب کے ساتھ میرا تعارف چھ سال کی عمر میں…

سوئس سسٹم

سوئٹزر لینڈ کا نظام تعلیم باقی دنیا سے مختلف…

انٹرلاکن میں ایک دن

ہم مورج سے ایک دن کے لیے انٹرلاکن چلے گئے‘ انٹرلاکن…

مورج میں چھ دن

ہمیں تیسرے دن معلوم ہوا جس شہر کو ہم مورجس (Morges)…