پیر‬‮ ، 17 اگست‬‮ 2026 

پاکستان میں گوبر سے پیدا ہونے والی گیس سے بسیں چلانے کا فیصلہ

datetime 3  جنوری‬‮  2019 |

کراچی(این این آئی) شہرقائد سے فضائی آلودگی اور درختوں کی کٹائی سے پیدا ہونے والی گرمی کے خاتمے کی خاطر ایسی بسیں متعارف کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو گوبر سے پیدا ہونے والی بایو میتھین گیس سے چلیں گی۔ ابتدائی طور پر 200 ایسی بسیں گرین بس ریپڈ ٹرانزٹ(بی آر ٹی)نیٹ ورک کے تحت متعارف کرائی جائیں گی۔ ان بسوں کے لیے سرمایہ انٹرنیشنل گرین کلائمٹ فنڈ مہیا کرے گا۔

عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق 2020 میں شروع ہونے والا یہ منصوبہ فضائی آلودگی اور شور شرابے کو کم کرنے میں معاون و مددگار ثابت ہوگا لیکن تاحال یہ سوال اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے کہ کیا متعارف کرائی جانے والی بسیں روشنیوں کے شہر کے لیے کافی ہوں گی؟۔کراچی میں رہنے والے 45 سالہ میڈیکل سیلز ری پریزنٹیٹو افضال احمد کے مطابق شہر میں پبلک ٹرانسپورٹ کا نظام مکمل طور پر تباہی کا شکار ہے جس کی وجہ سے لوگوں کی اکثریت آن لائن ٹیکسی سروس استعمال کرتی ہے اور یا پھر سفر کے لیے آٹو رکشہ پہ جانے پر مجبور ہوتی ہے۔افضال احمد نے بتایاکہ کچھ انتظامی مسائل کی بنیاد پر کراچی ٹرانسپورٹ کارپوریشن کو تقریبا دو دہائی قبل بند کردیا گیا تھا جس کے بعد چین سے درآمد شدہ ایسی بسیں منگوائی گئی تھیں جن میں قدرتی گیس کا استعمال ہوتا تھا لیکن اب وہ بھی سڑکوں سے تقریبا غائب ہوچکی ہیں۔وزیراعظم عمران خان کے مشیر برائے کلائمٹ چینج ملک امین اسلم کے مطابق بی آرٹی نظام پہلا ٹرانسپورٹ پروجیکٹ ہے جسے گرین کلائمٹ فنڈ نے منظور کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اس نظام سے بے پناہ ماحولیاتی و معاشی فوائد حاصل ہوں گے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اس نظام کے تحت چلنے والی ٹرانسپورٹ کو حکومتی امداد و مالی مدد کی بھی ضرورت نہیں ہوگی۔خبررساں ایجنسی کے مطابق دستیاب سرکاری دستاویزات کے مطابق بی آر ٹی نیٹ ورک کے تحت چلنے والی بسوں میں یومیہ تین لاکھ 20 مسافروں کے سفر کرنے کی گنجائش ہوگی اورفضا تقریبا 2.6 ملین ٹنز کاربن ڈائی آکسائیڈ سے آئندہ 30 سال تک محفوظ رہ سکے گی۔

کراچی میں متعارف کرایا جانے والا بی آرٹی نظام 30 کلومیٹر پر محیط ہو گا جو 18.6 میل کے مساوی ہے اور اس سے 1.5 ملین شہریوں کو فائدہ پہنچے گا۔خبررساں ایجنسی کے مطابق 30 کلومیٹر کے احاطے میں 25 نئے بس اسٹاپس بنائے جائیں گے، پیدل چلنے والے مسافروں کی حفاظت کے لیے محفوظ راستے تعمیر ہوں گے، موٹربائیکس اور سائیکلوں کے لیے مناسب سہولیات مہیا کی جائیں گی۔گرین کلائمٹ فنڈ اقوام متحدہ کی زیرنگرانی

قائم کیا گیا ہے جس کا بنیادی مقصد ترقیافتہ ممالک کو ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لیے کی جانے والی کوششوں میں مدد و معاونت فراہم کرنا ہے۔عالمی خبررساں ایجنسی کے مطابق کراچی کے اس منصوبے کی کل لاگت کا تخمینہ 583.5 ملین ڈالرز لگایا گیا ہے جس میں سے گرین کلائمٹ فنڈ 49 ملین ڈالرز کی رقم فراہم کرے گا۔اس پروجیکٹ میں ایشین ڈیولپمنٹ بینک اور حکومت سندھ کی مالی معاونت بھی حاصل ہوگی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)


جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…