منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

2018کے دوران فضائی حادثات میں ریکارڈ اضافہ،2017میں 44ہلاکتیں ،پچھلے سال کتنے افراد موت کے منہ میں چلے گئے ؟

datetime 2  جنوری‬‮  2019 |

کراچی(اے این این )اعداد و شمار کے مطابق سال 2017 کے مقابلے میں گذشتہ سال جان لیوا فضائی حادثات میں اضافہ دیکھا گیا، لیکن اس کے باوجود سال 2018 تاریخ میں اب بھی نواں محفوظ ترین سال رہا۔ایوی ایشن سیفٹی نیٹ ورک(اے ایس این)کی رپورٹ کے مطابق گذشتہ سال فضائی حادثات میں کل 556 افراد ہلاک ہوئے جبکہ 2017 میں یہ تعداد 44 تھی۔

گذشتہ سال سب سے بدترین حادثہ اکتوبر میں پیش آیا جب انڈونیشیا میں لائن ایئر پلین کو حادثہ پیش آیا جس کے نتیجے میں 189 افراد مارے گئے۔تاریخ میں 2017 کمرشل ائیرلائنز کے لیے سب سے محفوظ ترین سال رہا جس میں ایک بھی مسافر طیارے کو حادثہ نہیں پیش آیا تھا۔نیدرلینڈز کے ایے ایس این کا کہنا ہے کہ 2018 میں کل 15 جان لیوا فضائی حادثات پیش آئے۔لائن ائیر طیارے کو انڈونیشیا میں حادثہ پیش آیا تھا، اس حادثے میں ایک بوئنگ 737 میکس طیارہ جکارتہ سے پرواز بھرتے ہی جزیرہ جاوا میں جا گرا۔جولائی میں کیوبا میں گرنے والے ایک طیارے کو انسانی غلطی قرار دیا گیا تھا۔ اس حادثے میں 112 افراد ہلاک ہوئے تھے۔فروری میں ایران کی زگروز پہاڑیوں میں گرنے والے طیارے میں 66 افراد ہلاک ہوئے۔اسی طرح مارچ میں نیپال میں ایک طیارے کو اترتے وقت حادثہ پیش آیا جس میں 51 افراد مارے گئے۔تاہم گذشتہ 20 سالوں میں عام طور پر بہتری دیکھی جا رہی ہے۔اے ایس این کے چیف ایگزیکٹیو ہیرو رینٹر کا کہنا ہے کہ اگر حادثات کی شرح گذشتہ دس سالوں کی طرح برقرار رہتی تو گذشتہ برس 39 جان لیوا حادثات ہوتے۔اسی طرح اگر یہ شرح سال 2000 جیسی رہتی تو ایسے حادثات کی تعداد 64 ہوتی۔ اس سے لگتا ہے کہ گذشتہ دو دہائیوں میں سیفٹی کے معاملات میں کافی حد تک بہتری آئی ہے۔لیکن اے ایس این کا کہنا ہے کہ جہاں بات قابو سے باہر ہونے والے(لاس آف کنٹرول)حادثات کی ہے تو یہ فضائی صنعت کے لیے شدید تشویش کا باعث تھی، کیونکہ گذشتہ پانچ سالوں میں 25 بدترین حادثات میں سے 10 ایسے ہی تھے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…