ہفتہ‬‮ ، 03 اکتوبر‬‮ 2026 

اب جیل سے ملزم اور مجرم آکر ہم سے سوالات کرینگے!! کس وفاقی وزیر نے پبلک اکائونٹس کمیٹی میں شہباز شریف کے سامنے پیش ہونے سے صاف انکار کر دیا؟

datetime 2  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک)میں کسی کے باپ کا نوکر نہیں، اب جیل سے ملزم اور مجرم آکر ہم سے سوالات کروں گا، پیر کو خط میری وزارت کو بھجوایا جاتا اور کہا جاتا ہے کہ منگل کو پی اے سی میں پیش ہو کر جواب دیں، ایسا نہیں چلے گا، وفاقی وزیر فیصل واوڈا کی پبلک اکائونٹس کمیٹی اور چیئرمین شہباز شریف پر تنقید،کمیٹی کے سامنے پیش ہونے سے انکار کر دیا ،پریس کانفرنس کے

دوران سینئر صحافی کیساتھ بدتمیزی کرنے پر صحافیوں نے وفاقی وزیر کی پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا ، فیصل واوڈا معافیاں مانگتے رہ گئے۔ تفصیلات کے مطابق وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واوڈا نے آج پریس انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے پبلک اکائونٹس کمیٹی کے طرز عمل پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کمیٹی اور اس کے چیئرمین شہباز شریف کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاہے۔ فیصل واوڈا کا کہنا تھا کہ پیر کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کی جانب سے میری وزارت کو خط بھجوایا جاتا ہے کہ منگل کو پی اے سی میں پیش ہو کر جواب دیں، ایسا نہیں چلے گا میں کسی کے باپ کا نوکر نہیں ، اب جیل سے ملزم اور مجرم آکر ہم سے سوالات کرینگے۔ فیصل واوڈا نے اس صورتحال میں پبلک اکائونٹس کمیٹی میں پیش ہونے سے انکار کر دیا۔ وفاقی وزیر سے پریس کانفرنس کے دوران مہمند ڈیم کے ٹھیکے کے حوالے سے عبدالرزاق دائود کی کمپنی ڈیسکون کے حوالے سے بھی سوالات کئے گئے۔ اس دوران نجی ٹی وی ڈان نیوز کے سینئر رپورٹر علی کیانی نے وفاقی وزیر سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ آپ کی پارٹی حکومت پر تنقید کرتی رہی ہے اور اب اپوزیشن آپ پر تنقید کر رہی ہے جس پر وفاقی وزیر فیصل واوڈا آپے سے باہر ہو گئے اور کہا کہ ڈان کے رپورٹر سے اسی قسم کے سوال کی توقع کر رہا تھا اگر آپ سینئر رپورٹر نہ ہوتے تو آپ کے سامنے سے مائیک اٹھوا دیتا جس پر صحافیوں نے فیصل واوڈا سے ان کے تبصرے پر شدید احتجاج کرتے ہوئے پریس کانفرنس کا بائیکاٹ کر دیا۔ فیصل واوڈا اس دوران معافی اور وضاحتیں دیتے رہے مگر صحافیوں نے احتجاج جاری رکھتے ہوئے بائیکاٹ منسوخ نہ کرنے کا اعلان کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…