جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

7سال قید کم ہے بڑھائی جائے، نواز شریف کو لینے کے دینے پڑگئے سزا معطلی کی درخواست مسترد ہونے کے بعد ایک اور بری خبر سنا دی گئی

datetime 2  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی فلیگ شپ ریفرنس میں بریت اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا میں اضافے کے لیے اپیل دائر کر تے ہوئے موقف اختیار کیا ہے کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی کرپشن کے ٹھوس ثبوت پیش کیے، انہیں بری کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے، محض شک کا فائدہ دے کر نواز شریف کو بری کرنا خلاف قانون ہے۔

تفصیلات کے مطابق قومی احتساب بیورو (نیب ) نے سابق وزیراعظم نواز شریف کی فلیگ شپ ریفرنس میں بریت اور العزیزیہ ریفرنس میں سزا میں اضافے کے لیے اپیل دائر کر دیں ۔نیب کی جانب سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دو اپیلیں دائر کی گئیں، ایک اپیل کا تعلق احتساب عدالت کی جانب سے فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی بریت اور دوسری العزیزیہ ریفرنس میں سابق وزیراعظم کی سزا میں اضافے کے لیے ہے ۔نیب نے احتساب عدالت کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے درخواست میں موقف اختیار کیا کہ فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف کی کرپشن کے ٹھوس ثبوت پیش کیے اس لیے انہیں بری کرنے کا فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔ نیب نے موقف اختیار کیا کہ محض شک کا فائدہ دے کر نواز شریف کو بری کرنا خلاف قانون ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ نواز شریف کے خلاف شواہد پر سزا سنائے۔نیب نے اپنی دوسری اپیل میں مقف اختیار کیا کہ العزیزیہ ریفرنس میں نواز شریف کے خلاف مقدمہ ثابت کیا، احتساب عدالت سے نواز شریف کو ملنے والی 7 سال قید کی سزا کم ہے، اسے بڑھایا جائے۔نیب کا موقف ہے کہ نواز شریف پر جرم ثابت ہوچکا ہے اس لیے نیب آرڈیننس میں دفعہ 9 اے 5 میں زیادہ سے زیادہ سزا 14 سال قید ہے۔عدالتی عملے نے دونوں درخواستیں وقت ختم ہونے کے باعث واپس کر دیں، عدالتی عملے کے مطابق درخواست دائر کرنے کا وقت دن ایک بجے تک ہے،

عدالتی وقت ختم ہونے پرنیب کی دونوں اپیلیں واپس لوٹا دی تھیں تاہم رجسٹرار آفس نے درخواستیں وصول کر لیں۔دریں اثنا اسلام آباد ہائیکورٹ نے العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف کی سزا معطلی کیلئے درخواست اعتراض کے باعث واپس کر تے ہوئے درخواست مکمل کر کے دوبارہ جمع کرانے کی ہدایت کر دی ۔ تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نوازشریف نے العزیزیہ ریفرنس

میں اپیل کا فیصلہ ہونے تک ضمانت پر رہائی کی درخواست جمع کروائی تھی جس پر اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے پر رہائی کے لیے دائر درخواست پر اعتراض لگا دیا ہے۔اسلام آباد ہائیکورٹ کے رجسٹرار نے سابق وزیراعظم کی اپیل کو نامکمل قرار دے کر واپس کردیا اور درخواست پر اعتراضات دور کرکے اسے رجسٹرار آفس میں جمع کرانے کی ہدایت کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…