اتوار‬‮ ، 24 مئی‬‮‬‮ 2026 

جوحکمرانی کا حق ہی نہیں رکھتے وہ کیوں بیٹھے ہیں، کام نہ کرنے والے لوگ حکومت کرنے کے مستحق نہیں ٗچیف جسٹس نے کھری کھری سنا دیں

datetime 2  جنوری‬‮  2019 |

اسلام آباد(این این آئی)چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے سندھ میں جنگلات کی زمین لیز پر دینے سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران ریمارکس دیئے ہیں کہ جو حکمرانی کا حق ہی نہیں رکھتے وہ کیوں بیٹھے ہیں، کام نہ کرنے والے لوگ حکومت کرنے کے مستحق نہیں ہیں۔بدھ کو چیف جسٹس پاکستان کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی اس موقع پر عدالت نے

چیف کنزرویٹر جنگلات پر شدید اظہار برہمی کیا۔اس موقع پر ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے عدالت کو بتایا کہ جنگلات کی 70 ہزار ایکڑ زمین غیر قانونی طور پر لیز پر دی گئی جو اب تک منسوخ نہیں ہوئی جس پر جسٹس فیصل عرب نے کہا وزیراعلیٰ سندھ کے احکامات سے جنگلات کی زمین الاٹ ہورہی ہے۔چیف جسٹس نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے مکالمے کے دوران کہا کہ ماحول کے لئے جنگلات انتہائی اہم ہیں، 30 اکتوبر کو عدالت نے حکم دیا تھا سندھ کابینہ نے اب تک عمل نہیں کیا، آپ نے کام نہیں کرنا تو عہدہ چھوڑ دیں، جو حکمرانی کا حق ہی نہیں رکھتے وہ کیوں بیٹھے ہیں، کام نہ کرنے والے لوگ حکومت کرنے کے مستحق نہیں ہیں۔جسٹس اعجاز الاحسن نے آبزرویشن دی کہ ایک لاکھ 45 ہزار ایکڑ جنگلات کی زمین پر غیر قانونی تعمیرات کی گئی ہیں، سندھ حکومت خود کہتی ہے بااثر افراد کو غیر قانونی الاٹمنٹ ہوئی، ہزاروں ایکڑ زمین پر قبضہ چھڑواتے کیوں نہیں ہیں۔اس موقع پر درخواست گزار نے کہا کہ جنگلات کی زمین غیر قانونی طور پر اومنی گروپ کو الاٹ کی گئی۔عدالت نے کہا کہ حکومت سندھ نے قبضہ واگزار کرانے کی بھی کوئی کوشش نہیں کی چیف جسٹس پاکستان نے کہا ہم نے سروے جنرل آف پاکستان کو چاروں صوبوں میں حد بندی کا حکم دیا تھا، پتہ نہیں رپورٹ آئی ہے کہ نہیں۔چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کہا کہ کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ حکومت غیر قانونی کام تسلیم کرے گی اور پھر اس پر کوئی کارروائی بھی نہیں کریگی۔چیف جسٹس پاکستان نے کہا کہ 9 تاریخ کو کیس کراچی میں سنیں گے، حکومت سندھ 8 جنوری تک جواب جمع کروائے جس کے بعد سماعت 9 جنوری تک کے لیے ملتوی کردی گئی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘


کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…