ہفتہ‬‮ ، 05 اپریل‬‮ 2025 

ریاست مدینہ کے نام پر ثقافت مدینہ کے منافی اقدامات ،وفاق المدارس نے حکومت کو انتباہ کردیا

datetime 28  دسمبر‬‮  2018
ہمارا واٹس ایپ چینل جوائن کریں

اسلام آباد/لاہور/کراچی ( آن لائن) حکومت آئین پاکستان کے منافی اقدامات سے گریز کرے ، اسلامی تہذیب و تمدن ملک و ملت کی بقا اور نوجوانوں کے بہتر مستقبل کی ضامن ہے،سینما گھروں کی جگہ تعلیمی ادارے بنائے جائیں،آرٹ کونسل میں رقص کی اجازت دینے کی بجائے ہم نصابی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کیا جائے،اسلامی شعائر کے منافی اقدامات کسی طور پر قابل قبول نہیں، ریاست مدینہ کا نام لے کر ثقافت مدینہ کے منافی پالیسیاں تشکیل دینے سے گریز کیا جائے

ان خیالات کا اظہار وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین مولانا ڈاکٹر عبدالرزاق اسکندر،مولانا مفتی محمد رفیع عثمانی،مولانا انوار الحق،مولانا محمد حنیف جالندھری،مولانا قاضی عبدالرشید،مولانا امداد اللہ،مولانا سعید یوسف،مولانا حسین احمد،مولانا زبیر صدیقی،مولانا مفتی صلاح الدین ایم این اے،مولانا اصلاح الدین اور دیگر نے مختلف مقامات پرجمعہ کے اجتماعات سے خطاب کرتے ہوئے کیا-وفاق المدارس کے قائدین نے کہا کہ تسلسل سے ایسی اطلاعات مل رہی ہیں جو پوری قوم کے لیے تشویش اور اضطراب کا باعث ہیں-حکمران نظریہ پاکستان اور اسلامی تہذیب و تمدن کے منافی اقدامات سے گریز کریں- انہوں نے کہا کہ ایک طرف بجٹ نہ ہونے کا ڈھنڈورہ پیٹا جا رہا ہے جب کہ دوسری طرف ایک خطیر رقم سے سینماگھر بنانے کا اعلان کیا گیا جو پوری قوم کے ساتھ مذاق کے مترادف ہے-انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے پہلے بسنت کا اعلان کیا،اس کی گرد نہیں چھٹی تھی تو آرٹس کونسل میں رقص کا شوشہ چھوڑ دیا گیا،ادھر دانش اسکولز سے ڈاڑھی اور پردے کے خلاف اقدامات کی اطلاعات آ رہی ہیں جو انتہائی افسوس ناک اور قابل مذمت ہیں-وفاق المدارس کے قائدین نے مطالبہ کیا کہ سینما گھروں کی جگہ تعلیمی ادارے بنائے جائیں اور آرٹ کونسل میں رقص کی جگہ ہم نصابی سرگرمیوں کا سلسلہ شروع کیا جائے-خطبا نے مطالبہ کیا کہ حکمران ریاست مدینہ کا نام لے کر ثقافت مدینہ سے متصادم پالیسیاں تشکیل دینے سے گریز کریں-جمعہ کے اجتماعات کے دوران ملک بھر میں حکومت کی اسلامی تعلیمات کے منافی پالیسیوں کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور مختلف مساجد میں حکومت کے آئین پاکستان سے متصادم فیصلوں کے خلاف قراردادیں بھی منظور کی گئیں

موضوعات:



کالم



چانس


آپ مورگن فری مین کی کہانی بھی سنیے‘ یہ ہالی ووڈ…

جنرل عاصم منیر کی ہارڈ سٹیٹ

میں جوں ہی سڑک کی دوسری سائیڈ پر پہنچا‘ مجھے…

فنگر پرنٹس کی کہانی۔۔ محسن نقوی کے لیے

میرے والد انتقال سے قبل اپنے گائوں میں 17 کنال…

نارمل معاشرے کا متلاشی پاکستان

’’اوئے پنڈی وال‘ کدھر جل سیں‘‘ میں نے گھبرا…

آپ کی امداد کے مستحق دو مزید ادارے

یہ2006ء کی انگلینڈ کی ایک سرد شام تھی‘پارک میںایک…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے (دوسرا حصہ)

بلوچستان کے موجودہ حالات سمجھنے کے لیے ہمیں 1971ء…

بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے؟ (پہلا حصہ)

قیام پاکستان کے وقت بلوچستان پانچ آزاد ریاستوں…

اچھی زندگی

’’چلیں آپ بیڈ پر لیٹ جائیں‘ انجیکشن کا وقت ہو…

سنبھلنے کے علاوہ

’’میں خانہ کعبہ کے سامنے کھڑا تھا اور وہ مجھے…

ہم سیاحت کیسے بڑھا سکتے ہیں؟

میرے پاس چند دن قبل ازبکستان کے سفیر اپنے سٹاف…

تیسری عالمی جنگ تیار(دوسرا حصہ)

ولادی میر زیلنسکی کی بدتمیزی کی دوسری وجہ اس…