منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

پاکستان کی طرف سے کرتار پور کوریڈور کی تعمیرکا کام تیزی سے جاری ، دریائے راوی پر800 میٹرطویل پل کی تعمیرکیلئے بنیادی ڈھانچہ مکمل ،بھارتی سائیڈ پر اب تک کتنا کام ہوا؟ حیرت انگیزانکشاف

datetime 28  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور (نیوزڈیسک)پاکستان کی طرف سے کرتار پور کوریڈور کی تعمیرکا کام تیزی سے جاری ، دریائے راوی پر800 میٹرطویل پل کی تعمیرکے لئے بنیادی ڈھانچہ مکمل کرلیا گیا جبکہ دربارصاحب سے زیرولائن تک سڑک کی لائنگ بھی مکمل کرلی گئی مگر بھارت کی طرف سے کوریڈورکی تعمیرکے حوالے سے تاحال کوئی پیشرفت نہ ہو سکی ۔تفصیلات کے مطابق حکومت پاکستان نے کرتارپور کوریڈور کے سنگ بنیاد کے اگلے ہی روز تعمیراتی کام شروع کردیا تھا،

ایک ماہ کے دوران دریائے راوی پر800 میٹرطویل پل کے لئے بنیادی ڈھانچہ مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ مرکزی سڑک کی بنیاد کے لئے پتھر بھی ڈالاجاچکا ہے ۔دوسری جانب گورداسپورمیں واقع ڈیرہ بابانانک جہاں بھارتی پنجاب کی حکومت نے پاکستان سے پہلے سنگ بنیادرکھا تھا وہاں تعمیراتی کام شروع نہیں ہوسکا ہے، مشرقی پنجاب کی حکومت نے کرتار پور کوریڈورکی تعمیرکے لئے ڈویلپمنٹ اتھارٹی بھی قائم کی تھی جس کے سربراہ مشرقی پنجاب کے وزیراعلی کیپٹن امریندرسنگھ خود ہیں ، کمیٹی کے ایک سینئرممبر سکھجیندرسنگھ رندھاوانے نجی ٹی وی کو بتایا کہ یہ بات درست ہے کہ بھارتی سائیڈ میں ابھی تک تعمیراتی کام شروع نہیں ہوسکا تاہم ہم نے تمام پیپرورک مکمل کرلیا ہے ۔ڈیرہ بابانانک کے اطراف میں واقع 13 دیہات کو اتھارٹی نے اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے یہاں ڈویلپمنٹ کرکے سمارٹ سٹی بنائے جائیں گے جس جگہ سے کوریڈورشروع ہونا ہے وہاں زمین ایکوائرکرلی گئی ہے ، اسی طرح پنجاب سے گورداسپورآنیوالے مرکزی سڑک سے ڈیرہ بابانانک تک روڈکی تعمیرکے لئے بھی جگہ ایکوائرکرلی گئی جہاں پیرسے کام شرو ہوجائیگا، سڑک کی تعمیربھارت کی نیشنل ہائی وے اتھارٹی کررہی ہے۔ انہوں نے مزیدبتایا کہ پاکستان اوربھارت کے مابین ابھی تک یہ طے نہیں ہوسکا کہ کوریڈورکے ذریعے روزانہ کتنے یاتری پاکستان جاسکیں گے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…