منگل‬‮ ، 13 جنوری‬‮ 2026 

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تاریخ رقم کر دی، ہزاروں کریمنل کیس نمٹا دیے، وہ بھی کتنے عرصے میں؟

datetime 27  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد، لاہور( آن لائن ) جسٹس آصف سعید کھوسہ نے تایخ رقم کر دی جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے ذمے تمام کرمنل کیسز نمٹا دئیے۔اس حوالے سے ایک صحافی زاہد گشکوری نے ایک ٹویٹ کیا ہے اور کہا ہے کہ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔انہوں نے اپنے ذمہ تمام قسم کے کرمنل کیسز نمٹا دئیے ہیں۔جسٹس آصف سعی کھوسہ سے پچھلے 4 سال میں 11ہزار کیسز کا فیصلہ سنایا۔ انہوں نے لاہور ہائیکورٹ میں ہزاروں آئینی، مجرمانہ، سول، سروس اور

آمدنی کے کیسز کو دیکھا۔واضح رہے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کئی تاریخی فیصلے سنائے۔قصور میں قتل ہونے والی بچی زینب کیس میں ملزم عمران علی کو سزا ہوئی تو عمران علی کی سزائے موت کے خلاف اپیل کا فیصلہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے سنایا اور جسے مسترد کر کے عمران علی کی سزائے موت کو بحال رکھا گیا تھا۔اور جب سپریم کورٹ نے ملکی تاریخ کے سب سے بڑے کیس پانامہ کیس کا فیصلہ سنا یا تو جسٹس آصف سعید کھوسہ نے اپنے اختلافی نوٹ میں کہا کہ وزیر اعظم صادق اور امین نہیں رہے۔ جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیر اعظم کو نااہل قرا ر دینے کی سفارش کی تھی۔ فیصلے میں بتایا گیا کہ جسٹس گلزار اور جسٹس آصف سعید کھوسہ نے وزیر اعظم کو نااہل قرار دینے کا نوٹ لکھا۔سپریم کورٹ نے شریف خاندان کی جانب سے پیش کیے جانے والے قطری خط کو بھی مسترد کر دیا۔اور جب چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار نے 10 نومبر کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی اپیل پر شریف برادران کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کی سماعت کے لیے 3 رکنی بینچ تشکیل دیا تھا۔ بینچ کا سربراہ جسٹس آصف سعید کھوسہ کو مقرر کیا گیا تھا جبکہ دیگر ارکان میں جسٹس دوست محمد اور جسٹس مظہر خیل عالم میاں خیل شامل تھے۔ تاہم بعد میں سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ نے شریف برادران کے خلاف حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کی سماعت سے معذرت کی تھی۔ جس کے بعد حدیبیہ پیپر ملز ریفرنس کی سماعت کرنے والا بینچ ٹوٹ گیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…