پیر‬‮ ، 12 جنوری‬‮ 2026 

کوٹ لکھپت جیل کا سپرنٹنڈنٹ نواز شریف کے سامنے بچھ گیا جیسے ہی سابق وزیراعظم جیل پہنچے تو فوراََ کیا چیز پیش کر دی؟

datetime 27  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (مانیٹرنگ ڈیسک) نواز شریف کی کوٹ لکھپت جیل منتقلی، جیل سپرنٹنڈنٹ اعجاز اصغر سابق وزیراعظم کے آگے بچھ گیا، کمرے میں خود شوگر فری کافی بنا کر پیش کی، اپنے آفس میں بٹھا کر ہی رجسٹر پر انگوٹھا اور دستخط کروائے ، خود بیرک میں چھوڑنے آئے۔ تفصیلات کے مطابق نواز شریف کی کوٹ لکھپت جیل آمد کے موقع پر جیل سپرنٹنڈنٹ کا سابق وزیراعظم سے

امتیازی سلوک سامنے آیا ہے۔ جیل سپرنٹنڈنٹ اعجاز اصغر سابق وزیراعظم کے سامنے بچھ گیا، دیگر قیدیوں کی طرح نواز شریف کیساتھ برتائو رکھنے کے بجائے بھرپور پروٹوکول کا مظاہرہ کیا۔ گزشتہ روز جب سابق وزیراعظم کی صاحبزادی مریم نواز اپنے والد سے ملاقات کیلئے جیل تشریف لائیں تو اس موقع پر جیل سپرنٹنڈنٹ اعجاز اصغر نے سابق وزیراعظم کو اپنے دفتر میں بلوا کر ان کی مریم نواز سے ملاقات کروائی جبکہ نواز شریف جب کوٹ لکھپت جیل منتقل کئے گئے تو اس موقع پر سپرنٹنڈنٹ جیل نے انہیں خود رسیو کیا اور اپنے دفتر میں بٹھا کر رجسٹر منگوا کر نواز شریف کے دستخط اور انگوٹھا لگوایا۔ اس دوران جیل سپرنٹنڈنٹ نے خود اپنے ہاتھ سے شوگر فری گرم گرم کافی بنا کر سابق وزیراعظم کو پیش کی اور بعدازاں بیرک تک بھی چھوڑنے ساتھ گئے اور انہیں نیا کمبل اور چارپائی دی گئی۔خیال رہے کہ سابق وزیراعظم نواز شریف سے آج کوٹ لکھپت جیل لاہور میں ملاقات کا پہلا دن ہے اور پہلے دن ان کی والدہ بیگم شمیم اختر اور صاحبزادی مریم نواز ملاقات کیلئے پہنچ گئی ہیں ۔ سابق وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کا وقت جمعرات کے روز صبح نو بجے سے شام پانچ بجے تک کا رکھا گیا ہے۔ ان سے آج گھر کے دیگر افراد اور پارٹی رہنما بھی ملاقات کرینگے۔ بق اسپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق، سابق اسپیکر پنجاب اسمبلی رانا محمد اقبال،سینیٹر رانا مقبول

اور جاوید لطیف بھی ملاقات کیلئے کوٹ لکھپت جیل پہنچ چکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق نواز شریف سے ملاقات کے لیے آنے والوں کو نواز شریف سے پوچھ کر ہی ملاقات کی اجازت دی جائے گی اور ملاقات جیل کے بی شیڈ میں کروائی جائے گی۔ خیال رہے کہ گزشتہ روز بھی نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز نے ان سے ملاقات کی تھی ، وہ اپنے والد کیلئے گھر سےان کی ضرورت کا سامان اور کھانا ساتھ لائی تھیں۔ اس موقع پر ان کے ہمراہ دو اور خواتین بھی تھیں۔ باپ بیٹی کے درمیان ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں کروائی گئی تھی۔واضح رہے کہ نواز شریف کو دیگر جیل قیدیوں کی طرح قیدی نمبر 4470 الاٹ کیا گیاہے۔

موضوعات:

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



سہیل آفریدی کا آخری جلسہ


وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…

ذورین نظامانی غلط نہیں کہہ رہا

والد صاحب نے مجھے پکڑ لیا‘ ان کے ہاتھ میں جوتا…

پرسی پولس

شیراز ریجن کا اصل کمال پرسی پولس (Persepolis) ہے‘ یہ…

سائرس یا ذوالقرنین

میرے سامنے پتھروں کی مستطیل عمارت تھی‘ فرش کے…

ایک دن ذوالقرنین کے مقبرے پر

میدان کی پچھلی جانب پہاڑ تھے‘ ان پر تازہ برف…

کام یابی کے دو فارمولے

کمرہ صحافیوں سے بھرا ہوا تھا‘ دنیا جہاں کا میڈیا…

وزیراعظم بھینسیں بھی رکھ لیں

جمشید رتن ٹاٹا بھارت کے سب سے بڑے کاروباری گروپ…

جہانگیری کی جعلی ڈگری

میرے پاس چند دن قبل ایک نوجوان آیا‘ وہ الیکٹریکل…

تاحیات

قیدی کی حالت خراب تھی‘ کپڑے گندے‘ بدبودار اور…

جو نہیں آتا اس کی قدر

’’آپ فائز کو نہیں لے کر آئے‘ میں نے کہا تھا آپ…

ویل ڈن شہباز شریف

بارہ دسمبر جمعہ کے دن ترکمانستان کے دارالحکومت…