منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

خواجہ سعد رفیق کا سیاسی مستقبل خطرے میں پڑ گیا ریلوے کی اربوں روپے کی زمین کوڑیوں کے دام کس کے نام کرواتے رہے؟ حیرت انگیز طریقے کا استعمال ، سنسنی خیز انکشاف سامنے آگیا

datetime 27  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور (مانیٹرنگ ڈیسک)خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی زمین کو کوڑیوں کے داموں بیچا، لاہور، فیصل آباد اور قصورمیں ریلوے کی زمین کو پہلے کمپنیوں کو بیچا گیا اور پھریہ زمینیںاپنے ذاتی لوگوں کے نام کی بعد میں یہ زمینیں اپنے نام کروائیں اورپھر کوڑیوں کے داموں بیچی گئیں، معروف صحافی چوہدری غلام حسین نے سنسنی خیز انکشاف کر دیا۔ تفصیلات کے

مطابق معروف صحافی چوہدری غلام حسین نے نجی ٹی وی پروگرام میں سابق وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق کے حوالے سے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواجہ سعد رفیق نے ریلوے کی اربوں روپے مالیت کی زمین کو کوڑیوں کے داموں بیچا، لاہور، فیصل آباد اور قصورمیں ریلوے کی زمین کو پہلے کمپنیوں کو بیچا گیا اور پھریہ زمینیںاپنے ذاتی لوگوں کے نام کی بعد میں یہ زمینیں اپنے نام کروائیں اورپھر کوڑیوں کے داموں بیچی گئیں۔خواجہ سعد رفیق کے خلاف اب نیب نے اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ واضح رہے کہ کل سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں ریلوے خسارہ کیس کی سماعت چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں دو رکنی بنچ نے کی۔ اس موقع پر سعد رفیق کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ آڈٹ پیراز میں کوئی کرپشن یا بے ضابطگی نہیں جس پر چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ لاسز تو ہوئے ہیں جس پر سعد رفیق کے وکیل کا کہنا تھا کہ یہ خسارہ ہے جو کہ 65سال سے چلا آرہا ہے۔ عدالت نے سعد رفیق کے وکیل کی جانب سے آڈیٹ پیراز کے جواب میں میں آڈیٹر جنرل اوروفاقی حکومت کو جواب الجواب جمع کرانیکی ہدایت کی۔ سعد رفیق نے ا س موقع پر چیف جسٹس سے بات کرنے کی اجازت طلب کی۔ چیف جسٹس کی جانب سے اجازت دئیے جانے پر سعد رفیق نے کہا کہ مجھ سے پہلے 58 ملین پینشن کی مد میں وفاقی حکومت دیتی تھی لیکن میرے دور میں 21 ملین ریلوے نے خود پینشن کی مد میں دئیے۔خواجہ سعد رفیق نے چیف جسٹس سے کہا کہ اب تو مجھے شاباش دے دیں۔جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ شاباش تب ملے گی جب معاملہ حل ہوجائے گا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…