ہفتہ‬‮ ، 08 اگست‬‮ 2026 

وزارت منصوبہ بندی نے سی پیک کے حوالے سے پاکستان کے ذمہ واجب الادا 40 ارب ڈالر قرض سے متعلق رپورٹ مسترد کردیں،قرضوں کی ادائیگی کی ذمہ داری حکومت کی نہیں بلکہ کس کی ہے؟ حیرت انگیزانکشاف‎

datetime 26  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد (آئی این پی ) وزارت منصوبہ بندی ترقی و اصلاحات نے میڈیا میں جاری سی پیک کے حوالے سے پاکستان کے ذمہ واجب الادا 40 ارب ڈالر قرض سے متعلق رپورٹ کو غلط معلومات پر مبنی اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے مسترد کردیا۔وزارت منصوبہ بندی میں سی پیک کے فوکل پرسن حسن داد کا کہنا تھا کہ سی پیک بیلٹ اینڈ روڈ کا فلیگ شپ اور انتہائی فعال منصوبہ ہے جب کہ سی پیک کے مالی امور حکومتوں کے مابین قرضوں، نجی سرمایہ کاری اور گرانٹس پر مشتمل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک 22 منصوبے تکمیل کے مختلف مراحل میں ہیں اور اس میں حکومت پاکستان کے ذمہ واجب الادا صرف 6 ارب ڈالر ہیں جو کم شرح کے سودی قرضوں اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں گرانٹس پر مشتمل ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ قرضہ ادائیگی کی مدت 20 سے 25 سال تک ہے، اس لئے پاکستان کے ذمہ واجب الادا 40 ارب ڈالر کا تاثر جھوٹ پر مبنی، بے بنیاد اور من گھڑت ہے۔ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے منصوبے آئی پی پیز کے تحت مکمل کئے جارہے ہیں اور ان کیلئے تمام مالی امداد کی فراہمی نجی کمپنیوں کی ذمہ داری ہے۔فوکل پرسن کے مطابق ان قرضوں کی ادائیگی کی ذمہ داری حکومت کی نہیں بلکہ سرمایہ کاروں کی ہے اور سی پیک کے ثمرات 2021 سے شروع ہوں گے۔ واضح رہے کہ ایک موقر قومی اخبار نے اپنی رپورٹ میں کہا تھاکہ پاکستان کو 20 برسوں میں چین کو قرضوں کی واپسی اور منافع کی شکل میں تقریباً 40 ارب ڈالر واپس کرنا ہوں گے، پاکستان میں چین نے سی پیک کے تحت مختلف منصوبوں میں 26.5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ وزارت منصوبہ بندی و ترقی کی دستاویزات کے مطابق 28.43 ارب ڈالر توانائی اور انفراسٹرکچر کے منصوبوں کے لیے، لیے گئے قرضوں کی واپسی کی مد میں پاکستان کو ادا کرنے ہوں گے جبکہ 11.4 ارب ڈالر سرمایہ کاروں کو منافع کی شکل میں ادا کیے جائیں گے اور یوں مجموعی طور پر چین کو 39.83 ارب ڈالر واپس کرنا ہوں گے ، پاکستان اوسطاً دو ارب ڈالر سالانہ کی ادائیگی چین کو کرے گا، رپورٹ کے مطابق چین سے لئے گئے 5.9 ارب ڈالر کے قرضوں پر سود کی شرح 2 فیصد سے لے کر 5.2 فیصد ہے۔ 77.4 کروڑ ڈالر کے تین حکومتی قرضوں پر 5.2فیصد سود کی مد میں دینا ہوگا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)


میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…