منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

منی لانڈرنگ جے آئی ٹی رپورٹ چیف جسٹس کو پیش ہونےسے پہلے لیک ہونے کا انکشاف، کہاں کہاں پیش کی گئی؟ پیپلزپارٹی پھٹ پڑی، بڑا دعویٰ کرتے ہوئےسپریم کورٹ سے بڑا مطالبہ کر دیا

datetime 24  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور (نیوز ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما و سابق وفاقی وزیر اطلاعات قمر الزمان کائرہ نے کہا ہے کہ یہ رپورٹ ہمارے لئے نئی نہیں تھی، اس رپورٹ کے بہت سے قصے ہم حکومتی وزراء سے پہلے ہی سن چکے ہیں، کوئی غلطی ہمارے ذمہ نہیں ہے، ہم ثابت کریں گے، ہم ایسی کہانیاں پہلے بھی سن چکے ہیں، ہم جے آئی ٹی کو اپنا جواب دے چکے ہیں، ہم بتائیں گے کہ جے آئی ٹی کی

رپورٹس پہلے کہاں کہاں پیش کی گئی ہیں،چیف جسٹس اس پر بھی نوٹس لیں گے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود یہ رپورٹس پہلے کیسے لیکس ہو جاتی ہیں۔وہ پیر کو یہاں میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے۔ قمر الزمان کائرہ نے کہا کہ یہ رپورٹ ہمارے لئے نئی نہیں تھی، اس رپورٹ کے بہت سے قصے ہم حکومتی وزراء سے پہلے ہی سن چکے ہیں، اس حوالے سے سوشل میڈیا اور میڈیا پر بھی بحث کی جا رہی تھی، عدالت نے کہا ہے کہ جب تک عدالتی فیصلہ نہیں ہو جاتا تب تک اس طرح کی بحث میڈیا پر نہیں ہونی چاہیے، میڈیا پر یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ جیسے سب کچھ آج فیصلہ ہو گیا، جیسے ہم گنہگار ہو گئے ہیں، عدالت میں حامد خان نے بڑے ادب سے کہاکہ اس معاملے کو ٹرائل کورٹ میں بھیجا جائے، کوئی غلطی ہمارے ذمہ نہیں ہے، ہم ثابت کریں گے، ہم ایسی کہانیاں پہلے بھی سن چکے ہیں، ہم جے آئی ٹی کو اپنا جواب دے چکے ہیں، ہم بتائیں گے کہ جے آئی ٹی کی رپورٹس پہلے کہاں کہاں پیش کی گئی ہیں، اگر وہ پیش نہیں ہوئی تو میڈیا پر کیسے آ گئی، میری اس درخواست پر چیف جسٹس ضرور توجہ فرمائیں گے، چیف جسٹس اس پر بھی نوٹس لیں گے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود یہ رپورٹس پہلے کیسے لیکس ہو جاتی ہیں، عدالت میں کھانے اور لانڈری کے بل پیش کئے جا رہے ہیں، کروڑوں کا الزام ہے بل ہزاروں کے پیش کئے جا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عدالت کے فیصلہ کا جے آئی ٹی نے تمسخر اڑایا ہے، اس کا بھی نوٹس لیا جانا چاہیے، ہم عدالتوں میں اپنا کیس لڑتے ہیں، عدالتوں سے نہیں لڑتے، ہر شخص کو گمان ہوتا ہے کہ میں اس ملک کو آگے لے گیا ہوں، میں ہی سب سے بڑا ہوا اسا ہے نہیں، ملک کے مسائل کا حل آئین کے اندر موجود ہے اور اس کے مطابق لے کر ملک کو چلائیں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…