جمعرات‬‮ ، 01 اکتوبر‬‮ 2026 

سپریم کورٹ کے ججز نے ریلویز کے معائنے کا اعلان کر دیا ریلوے کی اراضی کے حوالے سے بھی بڑا حکم جاری ، شیخ رشید بھی میدان میں آگئے، چیف جسٹس کو شاندار خراج تحسین پیش

datetime 24  دسمبر‬‮  2018 |

اسلام آباد(مانیٹرنگ ڈیسک) ریلوے کی اراضی ادارے کی نہیں بلکہ وفاقی حکومت کی ملکیت ہے،ریلوے کی اراضی تاحکم ثانی لیز یا ہائوسنگ سوسائٹیوں کے قیام کیلئے نہیں دی جائے گی، سپریم کورٹ کا ریلوے خسارہ کیس میں حکم۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے ریلوے خسارہ کیس میں ریمارکس دئیے ہیں کہ ریلوے کی اراضی ادارے کی نہیں بلکہ وفاقی حکومت

کی ملکیت ہے، عدالت عظمیٰ نے حکم دیا کہ تا حکم ثانی ریلوے کی اراضی لیز یا ہائوسنگ سوسائٹیوں کے قیام کیلئے نہیں دی جائیگی۔ عدالت نے چکوال سمیت دیگر مقامات سے ریلوے کی اراضی سے تجاوزات ہٹانے اور رائل پام کلب کے مالکان کو بھی آئندہ سماعت پر پیش ہونے کا حکم دیتے ہوئے سماعت 27 دسمبر تک ملتوی کردی۔سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر ریلوے شیخ رشید نے کہا کہ ریلوے اراضی کیس میں عدالت نے 27 دسمبر کو سب فریقین کو طلب کر لیا ہے، ریلوے کی اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرائیں گے اور یہ پھر سے منافع بخش ادارہ بنے گا، چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے دیگر ججز ریلویز کا معائنہ کرنے آئیں گے جو ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے، قوم چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو مدتوں یاد رکھے گی۔ریلوے کی اراضی کو قبضہ مافیا سے واگزار کرائیں گے اور یہ پھر سے منافع بخش ادارہ بنے گا، چیف جسٹس سمیت سپریم کورٹ کے دیگر ججز ریلویز کا معائنہ کرنے آئیں گے جو ہمارے لیے اعزاز کی بات ہے، قوم چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کو مدتوں یاد رکھے گی۔شیخ رشید نے کہا کہ ریلوے میں بہت کرپشن ہوئی ہے لیکن اسے خسارے سے نکالیں گے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے شیخ رشید کا کہنا تھا کہ منی لانڈرنگ کے متعلق سنا ہے کہ فریال تالپور کی نواب شاہ اور دوسرے شہروں میں غیر ظاہر شدہ اراضی سامنے آئی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…