منگل‬‮ ، 08 ستمبر‬‮ 2026 

بچے من کے سچے، لاہور میں 9 سالہ بچی کے قتل کا کیس، ایس ایس پی نے مقتولہ کے چھوٹے بھائی کو ٹافیاں، چپس اور جوس لے کر دیے اور پوچھا بیٹا بتاؤ ہوا کیا تھا، تو بچے نے حیران کن انکشاف کر دیا

datetime 22  دسمبر‬‮  2018 |

لاہور(نیوز ڈیسک)20 دسمبر کو لاہور کے علاقہ لوہاری گیٹ میں درندگی اور سفاکیت کا افسوسناک واقعہ پیش آیا تھا جہاں محلہ تیلیاں کے رہائشی جمیل کی بیٹی 9 سالہ عائشہ کو نامعلوم ملزم نے زیادتی کے بعد گلے میں پھندہ ڈال کر قتل کر دیا۔ پولیس نے تفتیش کا دائرہ کار بڑھاتے ہوئے مقتولہ کی خالہ سمیت کئی افراد کو شامل تفتیش کر لیا ہے، ایک نجی ٹی وی چینل کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ ایس پی سٹی نے مقتولہ کے کمسن بھائی عبداللہ کو ٹافیاں، lays، جوس اور دیگر چیزیں خرید کر دیں

اور عبداللہ کو پیار کرتے ہوئے اصل واقعہ جاننے کے لیے اس کے والد کے سامنے بار بار وقوعہ کے متعلق سوالات کیے، اس موقع پر کمسن عبداللہ نے بتایا کہ ماموں اس سے قبل بھی اس کی مقتولہ بہن پر کئی بار تشدد کرتا رہتا تھا، عائشہ کے والد نے اس موقع پر بتایا کہ جب اسے وقوعہ کی اطلاع ملی تو وہ جائے وقوعہ پر پہنچا تو اس کی سالی مریم نے کہا کہ بھائی اسے معاف کر دینا ان سے غلطی ہو گئی ہے، کمسن عبداللہ نے ایس پی سٹی معاذ ظفر کے سامنے انکشاف کیا کہ اس کی امی کے گھر نہ ہونے کی وجہ سے اس کی بہن ہر روز اسے کھانا کھلاتی تھی، عائشہ اس سے بہت پیار کرتی تھی جب عائشہ کی موت کا واقعہ ہوا وہ اس وقت گھر نہیں تھا، کمسن عبداللہ نے بتایا کہ ماموں تمجید نے اسے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔ واضح رہے بچی کی والدہ اور نانی عمرہ کیلئے گئی ہوئی ہیں۔ ایس پی سٹی معاذ ظفرکے مطابق واقعہ کے وقت گھر میں مقتولہ عائشہ کے ماموں تمجید اور خالہ گھر میں موجود تھیں اورعائشہ کے ماموں تمجید سے تفتیش کا سلسلہ جاری ہے۔واضح رہے کہ لاہور کے علاقہ لوہاری گیٹ میں زیادتی کا نشانہ بننے کے بعد قتل ہونے والی ننھی کلی عائشہ کی میڈیکل رپورٹ منظر عام پر آگئی‘ میڈیکل رپورٹ میں عائشہ کے ساتھ زیادتی کی تصدیق کردی گئی۔ میڈیکل رپورٹ کے مطابق عائشہ کے جسم کے مختلف حصوں پر تشدد اور خراشوں کے دس سے زائد نشانات ہیں جبکہ عائشہ کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد گلا دبا کر بے دردی سے قتل کیا گیا۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ عائشہ کے والد طارق کے بیان پر نامعلوم ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا جبکہ عائشہ کے سگے ماموں سمیت 3 افراد پولیس کی تحویل میں ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)


لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…